خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 866 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 866

خطبات مسرور $2004 866 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ﴾ (الذاریات: 57)۔اور میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری عبادت کریں۔گزشتہ دنوں مجھے کسی نے امریکہ سے لکھا کہ بعض لوگ جو آجکل اس مغربی معاشرے سے متاثر لگتے ہیں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو عبادت کروانے کی کیا ضرورت تھی؟ اس سے یوں لگتا ہے گویا ( نعوذ باللہ ) خدا تعالیٰ کو بھی دنیا داروں کی طرح اپنے ماننے والوں یا اپنے احکامات پر عمل کرنے والوں کی ضرورت ہے یا ایسے لوگ چاہئیں جو ہر وقت اس کا نام جپتے رہیں اس کے آگے جھکے رہیں، یہ تو خط میں واضح نہیں تھا کہ یہ خیالات رکھنے والے احمدی ہیں، غیر احمدی ہیں یا اس ماحول کے لڑکے ہیں یا کوئی اور۔بہر حال مجھے اس سے یہ تاثر ملا تھا کہ شاید کچھ احمدی لڑکے بھی ہوں یا ان میں کچھ احمدی لوگ بھی ہوں ، صرف نوجوان ہی نہیں بڑی عمر کے بھی بعض اوقات ہو جاتے ہیں جو بعض دفعہ لامذہبوں یا دوسروں سے متاثر ہو کر ایسی باتیں کر جاتے ہیں یا متاثر ہور ہے ہوتے ہیں۔تو تاثر یہی تھا کہ یہ جو پانچ وقت کی نمازیں ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے یہ جیسے کہ زائد بوجھ ہیں اور ان کی اس طرح پابندی کرنی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں ہے اور آجکل کے مصروف زمانے میں یہ بہت مشکل کام ہے بہر حال دہر بیت اور عیسائیت دونوں سے متاثر ہو کر ایسے لوگ ایسی باتیں کر سکتے ہیں۔اور ان پر یہ باتیں اثر انداز ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ مغرب میں رہنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے