خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 857
$2004 857 خطبات مسرور چاہئے۔گویا کہ یہ ذمہ داری ہم نے ان پر ڈال دی ہے اب ان کا کام ہے جس طرح بھی مانگیں اور ہمارا کام کرائیں۔بعض ایسے بھی سر پھرے ہوتے ہیں ، ایسے خط آ جاتے ہیں جن میں با قاعدہ میری جواب طلبی ہوتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی نہ کوئی حوالہ اس میں لکھ کر اس کی اپنے طور پر تشریح کر رہے ہوتے ہیں کہ آپ کو اتنا عرصہ ہو گیا دعا کے لئے لکھ رہا ہوں اور ابھی تک میرا کام نہیں ہوا۔آپ کا یہ فرض بنتا ہے کہ میرے لئے دعا کریں اور اپنی ذمہ داری کی طرف آپ کو توجہ دینی چاہئے۔باقاعدہ ڈانٹ ہوتی ہے۔حضرت خلیفہ المسح الاول کا مجھے ایک حوالہ ملا۔جس سے مجھے پتہ لگا کہ یہ سر پھرے صرف آج کل ہی نہیں ہیں ،فکر کی کوئی بات نہیں بلکہ ہر زمانے میں ہوتے ہیں۔یہ بڑا اچھا حوالہ ہے کیونکہ لگتا ہے کسی وقت آپ کے ساتھ بھی کسی ایسے نے ہی کوئی ایسی باتیں کی تھیں جس پر آپ نے خطبے میں یہ فرمایا۔حضرت خلیفہ اول فرماتے ہیں کہ : ” بعض لوگ دعا کے واسطے مجھے اس طرح سے کہتے ہیں کہ گویا میں خدا کا ایجنٹ ہوں اور بہر حال ان کا کام کر دوں گا۔خوب یادرکھو میں ایجنٹ نہیں ہوں، میں اللہ کا ایک عاجز بندہ ہوں۔حضرت خلیفہ اول کا جواب میں اسی لئے پڑھ رہا ہوں کہ وہی جواب ان کو میری طرف سے بھی ہے۔ہاں! اللہ تعالیٰ کے آگے عاجزی کرنا میرا کام ہے“۔پھر فرمایا: ”مگر جماعت کے بعض لوگ دعا کرانے کی درخواست میں بھی شرک کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔یا د رکھو کہا للہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، کوئی تمہارا کار ساز نہیں۔میں علم غیب نہیں جانتا۔نہ میں فرشتہ ہوں اور نہ میرے اندر فرشتہ بولتا ہے۔اللہ ہی تمہارا معبود ہے۔اسی کے تم ہم سب محتاج ہیں، کیا مخفی اور کیا ظاہر رنگ میں۔اس کی طاقت بہت وسیع ہے اور اس کا تصرف بہت بڑا ہے۔وہ جو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا: ” خدا ہی کا علم کامل ہے۔اس کا تصرف کامل ہے۔اس کے آگے سجدہ کرو۔اسی سے دعا مانگو۔روزہ ، نماز، دعا، وظیفہ، طواف، سجدہ ، قربانی، اللہ کے سوا دوسرے کے لئے