خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 80
$2004 80 خطبات مسرور پہلی تقرری ملایا ، سنگا پور میں بطور مربی کے فرمائی۔پھر آپ سماٹرا اور برٹش نارتھ بور نیو جو آج کل ملائشیا کہلاتا ہے اس میں ۱۹۵۹ء تک رہے۔۱۹۶۱ء میں دوبارہ سنگا پور میں تقرری ہوگئی۔پھر ۱۹۶۴ سے ۱۹۶۶ء تک جامعہ احمدیہ میں انڈونیشین زبان پڑھاتے رہے۔۱۹۷۶ء میں انہیں دوبارہ ملائشیا بھجوایا گیا۔واپسی پر تین سال مرکزی دفاتر میں خدمات سرانجام دیں۔پھر ۱۹۷۳ء سے ۱۹۷۶ء تک ملائشیا چلے گئے پھر واپسی پر جامعہ احمدیہ میں تقرری ہوئی اور ۱۹۸۰ء سے ۲۰۰۳ء تک آپ وکالت تبشیر ربوہ اور وکالت اشاعت ربوہ میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔انڈونیشین زبان میں متعدد کتب کا ترجمہ کرنے کی بھی آپ کو توفیق ملی۔آپ نیک، باوفا مخلص، دعا گو اور عالم با عمل بزرگ مربی تھے۔آپ نے نہایت اخلاص، محنت اور لگن کے ساتھ ۵۷ سال تک بے لوث خدمات سلسلہ ادا کرنے کی توفیق پائی ہے۔مرحوم کی چھ بیٹیاں تھیں۔واقعی بہت سادہ مزاج بالکل عاجز انسان تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔ان کے ایک داماد ہمارے مبلغ مکرم نسیم باجوہ صاحب ہیں۔اللہ ان کی بچیوں کو صبر اور حوصلہ کے ساتھ یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔پھر مکرم صاحبزادہ مرزار فیع احمد صاحب جن کی ۱۵ جنوری بروز جمعرات بعمر ۷۷سال وفات پاگئے۔۔انا للہ وانا اليه راجعون۔مرحوم مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے صدر رہے۔آپ نے انڈونیشیا میں بطور مبلغ کے بھی خدمات کی توفیق پائی اور جامعہ احمدیہ میں بھی پڑھاتے رہے۔ان کے بیٹے مکرم صاحبزادہ عبد الصمد احمد صاحب اس وقت سیکرٹری مجلس کار پرداز کے طور پر خدمات بجا لا رہے ہیں۔پسماندگان میں بیگم کے علاوہ ۳ بیٹے اور بیٹیاں یادگار چھوڑی ہیں۔آپ حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے تھے۔جب اللہ تعالیٰ نے مجھے خلافت پر متمکن فرمایا تو ان کی طرف سے انتہائی عاجزی اور اخلاص اور وفا کا خط مجھے ملا اور پھر اس کے بعد ہر خط میں یہ حال بڑھتا چلا گیا۔باوجود اس کے کہ میرے ساتھ انتہائی قریبی رشتہ تھا، ماموں کا رشتہ تھا۔ان کے اخلاص اور وفا کے الفاظ پڑھ کر دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا تھا۔میرا خیال ہے کہ میرے چند ایک ایسے بڑے