خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 806
$2004 806 خطبات مسرور ہے۔ایک ایک قطرہ سے دریا بن جاتا ہے۔اگر کوئی چار روٹی کھاتا ہے تو اسے چاہئے کہ ایک روٹی کی مقدار اس میں سے سلسلہ کے لئے بھی الگ کر رکھے اور نفس کو عادت ڈالے کہ ایسے کاموں کے لئے اسی طرح سے نکالا کرے۔چندے کی ابتدا اس سلسلہ سے ہی نہیں ہے بلکہ مالی ضرورتوں کے وقت نبیوں کے زمانوں میں بھی چندے جمع کئے گئے تھے۔(ملفوظات جلد 3 صفحه ٣٦٠ البدر ۱۷ جولائی ۱۹۰۳ پس جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ بچوں، کھلونوں وغیرہ پر خرچ کر دیتے ہیں تو دین کے لئے کیوں نہیں کئے جاتے۔تو اس وقت بھی جب بچوں پہ خرچ کر رہے ہوتے ہیں اگر بچوں کو سمجھایا جاوے اور کہا جائے کہ تمہیں بھی مالی قربانی کرنی چاہئے اور اس لئے کہ جماعت میں بچوں کے لئے بھی، جو نہیں کماتے ان کے لئے بھی ایک نظام ہے۔تحریک جدید ہے، وقف جدید ہے۔تو اس لحاظ سے بچوں کو بھی مالی قربانی کی عادت ڈالنے کے لئے ان تحریکوں میں حصہ لینا چاہئے۔اس کے لئے کہنا چاہئے ، اس کی تلقین کرنی چاہئے۔جب بھی بچوں کو کھانے پینے کے لئے یا کھیلنے کے لئے رقم دیں تو ساتھ یہ بھی کہیں کہ تم احمدی بچے ہو اور احمدی بچے کو اللہ تعالی کی خاطر بھی اپنے جیب خرچ میں سے کچھ بچا کر اللہ کی خاطر، اللہ کی راہ میں دینا چاہئے۔اب عید آ رہی ہے۔بچوں کو عیدی بھی ملتی ہے تھے بھی ملتے ہیں۔نقدی کی صورت میں بھی۔اس میں سے بھی بچوں کو کہیں کہ اپنا چندہ دیں۔اس سے پھر چندہ ادا کرنے کی اہمیت کا بھی احساس ہوتا ہے اور ذمہ داری کا بھی احساس ہوتا ہے۔بچہ پھر یہ سوچتا ہے اور بڑے ہوکر یہ سوچ پکی ہو جاتی ہے کہ میرا فرض بنتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر خرچ کروں، قربانیاں دوں۔پھر نو مبائعین کے بارے میں فرمایا کہ بیعت کرتے ہیں اور وہ چندہ نہیں دیتے۔ان کو بھی اگر شروع میں یہ عادت ڈال دی جائے کہ چندہ دینا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس کے دین کی