خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 747 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 747

747 $2004 خطبات مسرور ہے اور صوم تجلی قلب کرتا ہے۔تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بعد حاصل ہو جائے نفس امارہ بدی کی طرف مائل کرنے والا نفس ہے۔اس سے دوری حاصل ہو جاتی ہے۔اور جلی قلب سے مراد یہ ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کودیکھ لے۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحه ٥٦٢،٥٦١ البدر ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ فرمایا: پس روزہ رکھنے اور قرآن پڑھنے اور عبادت کرنے سے دل روشن ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے قریبی تعلق پیدا ہوتا ہے۔نمازیں جو ہیں وہ نفس کو پاک کرتی ہیں۔ان دنوں میں نمازوں پر بھی خاص طور پر زور دو تا کہ نفس مزید پاک ہوں۔اور روزے سے دل کو روشنی ملتی ہے۔اور دلوں کی روشنی یہ ہے ( آپ نے فرمایا) کہ اللہ تعالیٰ سے ایسا قریبی تعلق پیدا ہو جاتا ہے گویا کہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریر کا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کی ذات کے لئے ہوتا ہے سوائے روزوں کے۔پس روزہ میری خاطر رکھا جاتا ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔اور روزے ڈھال ہیں۔اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ شہوانی باتیں اور گالی گلوچ نہ کرے اور اگر اس کو کوئی گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو اسے جواب میں صرف یہ کہنا چاہئے کہ میں تو روزہ دار ہوں۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے روزہ داروں کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے زیادہ طیب ہے۔روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جو اسے خوش کرتی ہیں۔ایک جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔اور دوسرے جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہو گا۔“ ہوگا (بخاری کتاب الصوم باب فضل الصوم تو اس میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ میری خاطر رکھا جاتا ہے۔تو جو کام اللہ تعالیٰ کی خاطر کیا جائے اس میں دنیا کی ملونی ہو نہیں سکتی۔اور جو کام اللہ تعالیٰ کی خاطر کیا جائے اس کا اظہار لوگوں کے سامنے یا ان سے تعریف کروانے کے لئے نہیں ہوتا بلکہ کوشش ہوتی ہے کہ نیکی چھپی رہے۔اور جب وہ لوگوں سے چھپ کر نیکی کر رہا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے