خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 713
خطبات مسرور 713 لئے چاہئے کہ تمہارا دن اور تمہاری رات غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خالی نہ ہو۔$2004 (ملفوظات جلد 5 صفحه 403 الحكم 10 جنوري 1908 | خدا کرے کہ کسی احمدی کی نماز بھی بے خبری کی نماز نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والی نماز نہ ہو۔بلکہ اس کے انعاموں کو حاصل کرنے والی نماز ہو۔ہر احمدی کی نماز اس کی ذات پر اور اس کے خاندان پر بھی انعامات لانے والی ہو۔اور جماعتی طور پر بھی یہ دعا ئیں اکٹھی ہو کر جماعت میں مضبوطی پیدا کرنے والی ہوں۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب رکھا ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس وحدت کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت اور تاکید ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں اور ایک کے انوار ، دوسرے میں سرایت کر سکیں۔وہ تمیز جس سے خودی اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے نہ رہے۔یہ خوب یاد رکھو کہ انسان میں یہ قوت ہے کہ وہ دوسرے کے انوار کو جذب کرتا ہے۔پھر اسی وحدت کے لئے حکم ہے کہ روزانہ نمازیں محلہ کی مسجد میں اور ہفتہ کے بعد شہر کی مسجد میں اور پھر سال کے بعد عید گاہ میں جمع ہوں اور کل زمین کے مسلمان سال میں ایک مرتبہ بیت اللہ میں اکٹھے ہوں ، ان تمام احکام کی غرض 66 وہی وحدت ہے۔( لیکچر لدهیانه روحانی خزائن جلد 20 صفحه 281-282 ) اس ضمن میں یہ بھی عرض کر دوں کہ مردوں اور بچوں کو تو عموماً عادت پڑ جاتی ہے لیکن عورتوں کی طرف سے یہ شکایت ہوتی ہے کہ ان کی صفیں نہ سیدھی ہوتی ہیں نہ ایک صف میں کھڑی ہوتی ہیں۔جس کو جہاں جگہ ملے کھڑی ہو جاتی ہیں، بیچ میں بعض دفعہ کئی کئی صفیں خالی ہوتی ہیں۔اس لئے لجنہ اماءاللہ کی جو تنظیم ہے ان کے جو عہدیدار ہیں ان کی سیکرٹری تربیت ہیں، صدر ہیں وہ اپنی