خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 709
خطبات مسرور اسی طرح مواخذہ کیا جائے گا۔709 $2004 ( ابوداؤد كتاب الصلواة باب قول النبي عل الله لكل صلواة لا يتمها صاحبها تتم من تطوعه) اللہ تعالیٰ کی نظر میں نماز پڑھنے والے کی کتنی قدر ہے۔ظاہر ہے جو با قاعدہ نمازی ہوں گے انہیں ہی نفلوں کی طرف توجہ ہو گی، وہی نفل پڑھنے والے بھی ہوں گے۔تو فرمایا کہ اگر ایسے لوگوں کی فرض نمازوں میں کوئی کمی رہ جائے تو یہ نفلوں سے پوری کر دو۔کیونکہ جسے نفلوں کی عادت ہے وہ فرض یقیناً جان بوجھ کر نہیں چھوڑسکتا۔کوئی عذر ہوگا تو وہ نماز میں نہیں آسکے گا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ذرا غور کریں کہ اگر کسی کے دروازے کے پاس سے نہر گزرتی ہو وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی رہ جائے گی ؟ صحابہ نے عرض کی اس کی میل میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے خطاؤں کو معاف کر دیتا ہے۔(بخاری کتاب مواقيت الصلوة باب الصلوات الخمس كفارة) | اب یہ حدیث عموماً بہت سارے لوگوں نے سنی ہوگی، ذہن میں ہوتی ہے۔اگر کہیں حوالہ دینا ہو تو پیش بھی کر دیتے ہیں لیکن اس پر عمل بہت کم ہورہا ہوتا ہے۔اس لئے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی جگالی کرتے رہنا چاہئے ، ان کو دوہراتے رہنا چاہئے۔اب کون ہے دنیا میں جسے ذرا سا بھی خدا کا خوف ہو اور وہ یہ کہے کہ میں خطا کار نہیں ہوں یا میرے اندر کمزوریاں نہیں ہیں۔تو مومن کے لئے خوشخبری ہے کہ تمہاری یہ ساری خطائیں ، کمزوریاں، غلطیاں معاف ہوسکتی ہیں، دور ہوسکتی ہیں بشرطیکہ نمازیں با قاعدہ ادا کرنے والے ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”نماز اصل میں دعا ہے۔نماز کا ایک ایک لفظ جو بولتا ہے وہ نشانہ دعا کا ہوتا ہے۔اگر نماز میں دل نہ لگے تو پھر عذاب کے لئے تیار