خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 703 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 703

$2004 703 خطبات مسرور لے تو کہتے ہیں کہ اس کو پوری طرح Maintain کیا جائے۔بہر حال شرط انہوں نے یہی لگائی تھی کہ اس کو خوبصورت بنایا جائے گا۔یہ جو میں نے برائے نام قیمت بتائی ہے یہ 200 پاؤنڈ تھی۔پھر حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے 1996ء میں یہاں آ کر اس جگہ کا معائنہ کیا، یہ جگہ پسند آئی۔یہ تقریباً پونے دو ایکڑ یعنی 11۔75 ایکڑ ز (31 ہزار مربع فٹ ) اس کا رقبہ ہے بہت سارا خرچ والنٹیئر ز نے وقار عمل کر کے بچایا ہے، میرا اندازہ ہے کہ جتنا خرچ ہوا ہے اس سے تقریباً ڈیوڑھا اور ہوگا۔یہ خرچ تقریباً 1۔6 ملین ( 16 لاکھ پاؤنڈ خرچ ہوا ہے۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ برمنگھم جماعت کو اس مسجد کے بنانے میں مالی قربانی کا بہت بڑا حصہ ادا کرنے کی توفیق ملی۔اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے اور عمومی طور پر یو کے کی جماعت نے بھی کافی مدد کی ہے اللہ ان سب کو جزا دے۔اس کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹر فاروق صاحب اور ناصر خان صاحب نائب امیر نے بڑی محنت سے کام کیا۔اسی طرح وہی ٹیم جو بیت الفتوح میں کام کرتی رہی، والینٹیئر ز کی اور ورکرز کی بھی انہوں نے بھی یہاں آ کر کام کیا۔اللہ سب کو جزا دے۔یہ سب لوگ جنہوں نے مالی قربانیاں بھی کیں، وقت بھی دیا، انہوں نے جماعتی روایات کو قائم رکھا ، زندہ رکھا، خدا کرے کہ یہ آئندہ بھی ان روایات کو زندہ رکھنے والے رہیں۔لیکن یاد رکھیں کہ یہ سب جنہوں نے قربانیاں کیں ، جس قربانی کے جذبے سے آپ نے یہ مسجد تعمیر کی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے جس جذبے کے تحت آپ نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا ہے وہ جذ بہ ماند نہیں پڑ جانا چاہئے ختم نہیں ہو جانا چاہئے۔آپ کا اصل جذبہ اس عمارت کی تعمیر کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے آنے والوں کے لئے ، اکٹھے ہو کر اس کی عبادت کرنے والوں کے لئے ایک جگہ بنانا تھا جو اللہ تعالیٰ کا گھر کہلائے۔اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل میں تھا کہ لوگ ایک ایسی جگہ میں اکٹھے ہوں اور وہاں اکٹھے ہو کر با جماعت نمازیں ادا کرنے والے ہوں ، عبادت کرنے والے ہوں، ایک امام کی آواز کے ساتھ کھڑے ہوں اور بیٹھنے والے