خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 689
689 $2004 خطبات مسرور کے ذمے یہ کام لگایا گیا تھا۔اسی لئے ان کے ہاں ایک قیادت بھی اس کے لئے ہے جو تعلیم القرآن کہلاتی ہے۔اگر انصار پوری توجہ دیں تو ہر گھر میں با قاعدہ قرآن کریم پڑھنے اور اس کو سمجھنے کی کلاسیں لگ سکتی ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مومن قرآن کریم پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال ایک ایسے پھل کی طرح ہے جس کا مزہ بھی عمدہ اور خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے۔اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا مگر اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال اس کھجور کی طرح ہے کہ اس کا مزہ تو عمدہ ہے مگر اس کی خوشبو کوئی نہیں۔اور ایسے منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اس خوشبو دار پودے کی طرح ہے جس کی خوشبو تو عمدہ ہے مگر مزا کڑوا ہے۔اور ایسے منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ایسے کڑوے پھل کی طرح ہے جس کا مزا بھی کڑوا ہے جس کی خوشبو بھی کڑوی ہے۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب اثم من رأى بقراة القرآن او تأكل به او فجر به اس حدیث سے قرآن کریم کی مزید وضاحت یہ ہوتی ہے کہ نہ صرف تلاوت ضروری ہے بلکہ اس کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔جو قرآن کریم پڑھتے بھی ہیں اور اس پر غور بھی کرتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں وہ ایسے خوشبو دار پھل کی طرح ہیں جس کا مزا بھی اچھا ہے اور جس کی خوشبو بھی اچھی ہے۔کیسی خوبصورت مثال ہے۔کہ ایسا پھل جس کا مزا بھی اچھا ہے جب انسان کوئی مزیدار چیز کھاتا ہے تو پھر دوبارہ کھانے کی بھی خواہش ہوتی ہے۔تو قرآن کریم کو جو اس طرح پڑھے گا کہ اس کو سمجھ آ رہی ہوگی اس کو سمجھنے سے ایک قسم کا مزا بھی آرہا ہوگا اور جب اس پر عمل کر رہا ہوگا تو اس کی خوشبو بھی ہر طرف پھیلا رہا ہوگا۔اس کے احکام کی خوبصورتی ہر ایک کو ایسے شخص میں نظر آ رہی ہوگی۔