خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 62

62 $2004 خطبات مسرور ہو تو برداشت کر لیں اور اس وجہ سے برداشت کر لیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنی ہے تو پھر خدا طاقت اور ہمت بھی دیتا ہے اور حالات میں سدھار پیدا ہوتا ہے اور انشاء اللہ ہوتا چلا جائے گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: فَلا تَقُلْ لَّهُمَا أُقٍ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا یعنی اپنے والدین کو بیزاری کا کلمہ مت کہو اور ایسی باتیں ان سے نہ کر کہ جن میں ان کی بزرگواری کا لحاظ نہ ہو۔اس آیت کے مخاطب تو آنحضرت ملے ہیں لیکن دراصل مرجع کلام امت کی طرف ہے کیونکہ آنحضرت کے والد اور والدہ آپ کی خوردسالی میں ہی فوت ہو چکے تھے۔اور اس حکم میں ایک راز بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس آیت سے ایک عظمند یہ سمجھ سکتا ہے کہ جبکہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ تو اپنے والدین کی عزت کر اور ہر ایک بول چال میں ان کے بزرگا نہ مرتبہ کا لحاظ رکھ تو پھر دوسروں کو اپنے والدین کی کس قدر تعظیم کرنی چاہئے۔اور اسی کی طرف ہی دوسری آیت اشارہ کرتی ہے۔وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوْا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانا یعنی تیرے رب نے چاہا کہ تو فقط اسی کی بندگی کر اور والدین سے احسان کرے۔اگر خدا جائز رکھتا کہ اس کے ساتھ کسی۔اور کی بھی پرستش کی جائے تو یہ حکم دیتا کہ تم والدین کی بھی پرستش کرو۔کیونکہ وہ بھی مجازی رب ہیں۔اور ہر ایک شخص طبعاً یہاں تک کہ چرند بھی اپنی اولا د کو ان کی خوردسالی میں ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔پس خدا کی ربوبیت کے بعد ان کی بھی ایک ربوبیت ہے اور وہ جوش ربوبیت کا بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔(حقیقۃ الوحی صفحه ۲۰۵،۲۰۴) اللہ تعالیٰ ہمیں ان نصائح پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور والدین کی خدمت کرنے والے اور ان سے حسن سلوک کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ اپنی رضا کی راہوں پر ہمیں چلائے۔آج بنگلہ دیش میں ان کا جلسہ سالانہ بھی ہو رہا ہے۔بڑے نامساعد حالات میں وہ اپنا جلسہ کر رہے ہیں۔ان کے لئے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے یہ جلسہ با برکت فرمائے۔