خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 663
$2004 663 مسرور پھر آپ فرماتے ہیں : ” بیکار اور نکمی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعوی نہیں کر سکتا۔نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔پس یہ امر ذہن نشین کرلو کہ ملکی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ نص صریح ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ۔جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے اس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔اگر تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی نیکی کو اختیار کرنا نہیں چاہتے تو کیونکر کامیاب اور بامراد ہو سکتے ہو۔کیا صحابہ کرام مفت میں اس درجہ تک پہنچ گئے جو ان کو حاصل ہوا۔دنیاوی خطابوں کو حاصل کرنے کے لئے کس قدر اخراجات اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں تو پھر کہیں جا کر ایک معمولی خطاب جس سے دلی اطمینان اور سکینت حاصل نہیں ہو سکتی ، ملتا ہے۔پھر خیال کرو کہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ کا خطاب جو دل کو تسلی اور قلب کو اطمینان اور مولیٰ کریم کی رضا مندی کا نشان ہے کیا یونہی آسانی سے مل گیا ؟۔بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی جو حقیقی خوشی کا موجب ہے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک عارضی تکلیفیں برداشت نہ کی جاویں۔خدا ٹھگا نہیں جا سکتا۔مبارک ہیں وہ لوگ جو رضائے الہی کے حصول کے لئے تکلیف کی پرواہ نہ کریں کیونکہ ابدی خوشی اور دائمی آرام کی روشنی اس عارضی تکلیف کے بعد مومن کو ملتی ہے۔(رپورٹ جـلـســـه سالانه 1897ء صفحه 79 )۔فرمایا کہ اگر تم نیکیاں اس لئے کر رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرو تو پھر محنت کرنی پڑے گی۔ہر قسم کی نیکی کرنی ہوگی اور اس کے لئے مستقل مزاجی کی کوشش کرنی ہوگی۔اور پھر جب اس طرح اپنی تکلیفوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نیکیاں کرنے کی کوشش کرو گے تو پھر ہی ہمیشہ کی خوشی اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوسکتی ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ : " قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پر ہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔وجہ یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی