خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 61
$2004 61 مسرور والدہ کا حق بہت بڑا ہے اور اس کی اطاعت فرض۔مگر پہلے یہ دریافت کرنا چاہئے کہ آیا اس ناراضگی کی تہہ میں کوئی اور بات تو نہیں ہے۔جو خدا کے حکم کے بمو جب والدہ کی ایسی اطاعت سے بری الذمہ کرتی ہو۔مثلا اگر والدہ اس سے کسی دینی وجہ سے ناراض ہو یا نماز روزہ کی پابندی کی وجہ سے ایسا کرتی ہو۔تو اس کا حکم مانے اور اطاعت کرنے کی ضرورت نہیں۔اور اگر کوئی ایسا مشروع امر ممنوع نہیں ہے جب ، ( بیوی کے بارہ میں پوچھا تھا کہ والدہ یہ کہتی ہے ) تو وہ خود ( یعنی بیوی) واجب الطلاق ہو جاتی ہے۔سب سے زیادہ خواہشمند بیٹے کے گھر کی آبادی کی والدہ ہوتی ہے اور اس معاملہ میں ماں کو خاص دلچسپی ہوتی ہے۔بڑے شوق سے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے خدا خدا کر کے بیٹے کی شادی کرتی ہے تو بھلا اس سے ایسی امید وہم میں بھی آسکتی ہے کہ وہ بے جا طور سے اپنے بیٹے کی بیوی سے لڑے جھگڑے اور خانہ بربادی چاہے۔ایسے بیٹے کی بھی نادانی اور حماقت ہے کہ وہ کہتا ہے کہ والدہ تو ناراض ہے مگر میں ناراض نہیں ہوں۔۔والدہ اور بیوی کے معاملہ میں اگر کوئی دینی وجہ نہیں تو پھر کیوں یہ ایسی بے ادبی کرتا ہے۔اگر کوئی وجہ اور باعث اور ہے تو فوراً سے دور کرنا چاہئے۔بعض عورتیں اوپر سے نرم معلوم ہوتی ہیں مگر اندر ہی اندر وہ بڑی بڑی نیش زنیاں کرتی ہیں۔پس سب کو دور کرنا چاہئے اور جو وجہ ناراضگی ہے اس کو ہٹادینا چاہئے اور والدہ کو خوش کرنا چاہیئے۔دیکھو شیر اور بھیڑیئے اور اور درندے بھی تو ہلائے سے ہل جاتے ہیں اور بے ضرر ہو جاتے ہیں۔دشمن سے بھی دوستی ہو جاتی ہے اگر صلح کی جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ والدہ کو ناراض رکھا جاوے۔“ (ملفوظات جلد پنجم - صفحه نمبر ٤٩٨٠٤٩٧ الحكم ٢٦ / مارچ ١٩٠٨ء) مرد تو چونکہ مضبوط اعصاب کا ہوتا ہے، قوام ہے اس لئے اگر گھر میں کسی اختلاف کی وجہ بن بھی جائے تو پیار سے محبت سے سمجھا کر حالات کو سنبھالیں۔اسی طرح جوان بچیاں اور بہو ئیں بھی ان کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ بوڑھوں کے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں اور ان سے اگر کوئی سخت بات بھی