خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 59

59 $2004 خطبات مسرور ذِي الْقُرْبى (النحل: 91)‘ (ملفوظات جلد چهارم صفحه نمبر ۲۹۰،۲۸۹ بدریکم جون ١٩٠٥ء) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔پہلی حالت انسان کی نیک بختی کی ہے کہ والدہ کی عزت کرے۔اویس قرنی کے لئے بسا صلى الله اوقات رسول اللہ ہے یمن کی طرف منہ کر کے کہا کرتے تھے کہ مجھے یمن کی طرف سے خدا کی خوشبو آتی ہے۔آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ وہ اپنی والدہ کی فرمانبرداری میں بہت مصروف رہتا ہے اور اسی وجہ سے میرے پاس بھی نہیں آ سکتا۔بظاہر یہ بات ایسی ہے کہ پیغمبر خدا موجود ہیں، مگر وہ ان کی زیارت نہیں کر سکتے۔صرف اپنی والدہ کی خدمت الله گزاری اور فرمانبرداری میں پوری مصروفیت کی وجہ سے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو ہی آدمیوں کو السلام علیکم کی خصوصیت سے وصیت فرمائی۔یا اولیس گو یا مسیح کو۔یہ ایک عجیب بات ہے، جو دوسرے لوگوں کو ایک خصوصیت کے ساتھ نہیں ملی۔چنانچہ لکھا ہے کہ جب حضرت عمر ان سے ملنے کو گئے ، تو اویس نے فرمایا کہ والدہ کی خدمت میں مصروف رہتا ہوں اور میرے اونٹوں کو فرشتے چرایا کرتے ہیں۔ایک تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے والدہ کی خدمت میں اس قدر سعی کی اور پھر یہ قبولیت اور عزت پائی۔ایک وہ ہیں جو پیسہ پیسہ کے لئے مقدمات کرتے ہیں اور والدہ کا نام ایسی بری طرح لیتے ہیں کہ رذیل قو میں چوہڑے چمار بھی کم لیتے ہو نگے۔ہماری تعلیم کیا ہے؟ صرف اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی پاک ہدایت کا بتلا دینا ہے۔اگر کوئی میرے ساتھ تعلق ظاہر کر کے اس کو ماننا نہیں چاہتا، تو وہ ہماری جماعت میں کیوں داخل ہوتا ہے؟ ایسے نمونے سے دوسروں کو ٹھو کر لگتی ہے اور وہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں جو ماں باپ تک کی بھی عزت نہیں کرتے“۔فرمایا: ”میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ مادر پدر آزاد کبھی خیر و برکت کا منہ نہ دیکھیں گے۔پس نیک نیتی کے ساتھ اور پوری اطاعت اور وفاداری کے رنگ میں خدا رسول کے فرمودہ پر عمل