خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 611
$2004 611 خطبات مسرور گواہی دینی ہے اور جھوٹ بول کر نظام سے یا دوسرے فریق سے جھگڑنے کی کوشش نہیں کرنی۔اور نہ کبھی یہ خیال آئے کہ ہم نے اگر نظام کی بات مان لی ، اپنے بھائی بندوں سے صلح وصفائی کر لی، بچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلل اختیار کر لیا تو دنیا کیا کہے گی۔ہمیشہ یاد رکھو کہ تمہارا مطمح نظر، تمہارا مقصد حیات صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا ہونا چاہئے۔اور یہی کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کے نظام کے جو احکامات وقواعد اور فیصلے ہیں ان کی پابندی کرنی ہے اور اس بارے میں اپنی اطاعت میں بالکل فرق نہیں آنے دینا۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے حاکم سے نا پسندیدہ بات دیکھے وہ صبر کرے کیونکہ جو نظام سے بالشت بھر جدا ہو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔(صیح مسلم، کتاب الامارة، باب وجوب ملازمة جماعة المسلمين عند ظهور الفتن وتحذير الدعاة الى الكفر ) بعض لوگ ، لوگوں میں بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ نظام نے یہ فیصلہ کیا فلاں کے حق میں اور میرے خلاف لیکن میں نے صبر کیا لیکن فیصلہ بہر حال غلط تھا۔میں نے مان تو لیا لیکن فیصلہ غلط تھا۔تو اس طرح لوگوں میں بیٹھ کر گھما پھرا کر یہ باتیں کرنا بھی صبر نہیں ہے۔صبر یہ ہے کہ خاموش ہو جاتے اور اپنی فریاد اللہ تعالیٰ کے آگے کرتے۔ہو سکتا ہے جہاں بیٹھ کر باتیں کی گئی ہوں وہاں ایسی طبیعت کے مالک لوگ بیٹھے ہوں جو یہ باتیں آگے لوگوں میں پھیلا کر بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس طرح نظام کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو۔اور اس سے بعض دفعہ فتنے کی صورت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔اور پھر جولوگ اس فتنے میں ملوث ہو جاتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ پھر وہ جاہلیت کی موت مرتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے کیا توقع رکھتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: کیا اطاعت ایک سہل امر ہے جو شخص پورے طور پر اطاعت نہیں کرتا وہ اس سلسلے کو بدنام