خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 593
$2004 593 مسرور بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ بلا وجہ دوسروں کو مشورے دینے لگ جاتے ہیں۔کسی نے کوئی مشورہ نہ بھی پوچھا ہو تو عادتاً مشورہ دیتے ہیں یا بعض ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو کسی کی دل شکنی کا یا اس کے لئے مایوسی کا باعث بن جاتی ہے۔مثلاً کسی نے کارخریدی، کہ دیا یہ کار تو اچھی نہیں فلاں زیادہ اچھی ہے۔وہ بیچارہ پیسے خرچ کر کے ایک چیز لے آتا ہے اس پہ اعتراض کر دیا یا پھر اور اسی طرح کی چیز لی اس پہ اعتراض کر دیا۔اس کی وجہ سے پھر دوسرا فریق جس پہ اعتراض ہورہا ہوتا ہے وہ پھر بعض دفعہ مایوسی میں چڑ بھی جاتا ہے اور پھر تعلقات پر بھی اثر پڑتا ہے۔تو بلا ضرورت کی جو باتیں ہیں وہ بھی لغویات میں شمار ہوتی ہیں۔بعض دفعہ دو آدمی باتیں کر رہے ہیں تیسر ا بلا وجہ ان میں دخل اندازی شروع کر دے، یہ بھی غلط چیز ہے لغویات میں اس کا شمار ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ” رہائی یافتہ مومن وہ لوگ ہیں جو لغو کاموں اور لغو باتوں اور لغو حرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو صحبتوں سے اور لغو تعلقات سے اور لغو جوشوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔(تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام جلد سوم سورة النحل يا سورة يس صفحه 359 ) تو یہ تمام لغویات جن کی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نشان دہی فرمائی ہے یہ کیا ہیں؟ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا کسی پر الزام تراشی کرنا ، بغیر ثبوت کے کسی کو بلاوجہ بدنام کرنا، اس کے افسران تک اس کی غلط رپورٹ کرنا ، عدالتوں میں بلاوجہ اپنی ذاتی انا کی وجہ سے کسی کو کھینچنا، گھریلو جھگڑوں میں میاں بیوی کے ایک دوسرے پر گندے اور غلیظ الزامات لگانا پھر سینما وغیرہ میں گندی فلمیں ( گھروں میں بھی بعض لوگ لے آتے ہیں ) دیکھنا، تو یہ تمام لغویات ہیں۔پھر انٹرنیٹ کا غلط استعمال ہے یہ بھی ایک لحاظ سے آجکل کی بہت بڑی لغو چیز ہے۔اس نے بھی کئی گھروں کو اجاڑ دیا ہے۔ایک تو یہ رابطے کا بڑا ستا ذریعہ ہے پھر اس کے ذریعہ سے بعض لوگ پھرتے پھراتے رہتے ہیں اور پتہ نہیں کہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔شروع میں شغل کے طور پر