خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 573
$2004 573 خطبات مسرور تو تنگدست مقروض بھائیوں کی ضرور مدد کرنی چاہے لیکن بعض لوگوں نے جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ قرض لینے کو بھی پیشہ بنالیا ہے۔کام کچھ نہیں کریں گے ، مانگنے کا ذرا بہتر طریقہ یہ اختیار کر لیا کہ قرض دے دو اورا تارنے کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔حضرت ابو قتادہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مسلمان پر ان کا کچھ قرض تھا تو جب یہ تقاضا کرنے جاتے تو یہ چھپ رہتا تھا، (چھپ جاتا تھا)۔تو ایک روز گئے تو اس شخص کے لڑکے سے معلوم ہوا کہ گھر میں بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں ( تو اس کو انہوں نے ) آواز دے کر کہا کہ باہر نکلو مجھے معلوم ہو گیا ہے ) کہ تم اندر ہو ) اب چھپنا بے کار ہے اور پھر جب وہ باہر آئے تو چھپنے کی وجہ معلوم کی۔اس نے کہا بات یہ ہے کہ میں بڑا تنگدست ہوں، میرے پاس کچھ نہیں ہے اس کے ساتھ عیال دار ہوں، ( بچے بھی بہت ہیں، خاندان بھی بڑا ہے، تو انہوں نے پوچھا واقعی تمہارا یہی ہے تو اس نے کہا خدا کی قسم میرا یہی حال ہے تو اس پہ ابو قتادہ آبدیدہ ہو گئے اور انہوں سے اس کو سارا قرض معاف کر دیا۔(سیـر صـحـابـه جلد 3 صفحه 200 )۔یہاں جوصورت نظر آ رہی ہے اس میں دوسرے مسلمان کا شرمندگی کا پہلو نظر آ رہا ہے۔اس خیال سے کہ میں وعدے کے مطابق قرض نہیں اتارسکا کوئی صورت نظر نہیں آرہی ، سامنے جاؤں گا تو باتیں بھی سنوں گا، شرمندگی بھی اٹھانی پڑے گی تو اس وجہ سے وہ چھپے رہتے تھے لیکن صحابہ جن کی ٹرینگ آنحضرت ﷺ سے براہ راست ہوئی تھی ان کے دل بھی نرم تھے اور وہ پہنچانتے بھی تھے کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔ان میں کافی فراست ہوتی تھی تو انہوں نے اس کا جائزہ لیا۔اس سے بات کی اور پھر قرض معاف کر دیا۔یہ آجکل کے لوگ بعض لوگوں کی طرح نہیں ہیں کہ قرض بھی لے لیتے ہیں اور اس کے بعد ڈھٹائی سے کہہ دیا کہ ابھی حالات نہیں ، ابھی واپس نہیں کر سکتے اور واپس کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آسانی