خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 534
$2004 534 خطبات مسرور اس کو ہی پسند نہ کیا جاوے اور ساری غرض و غایت آکر اس پر ہی نہ ٹھہر جائے کہ بولنے والا کیسی جادو بھری تقریر کر رہا ہے۔الفاظ میں کیسا زور ہے۔میں اس بات پر راضی نہیں ہوتا۔میں تو یہی پسند کرتا ہوں اور نہ بناوٹ اور تکلف سے بلکہ میری طبیعت اور فطرت کا یہی اقتضا ہے۔یہی تقاضا کرتی ہے کہ ” جو کام ہو اللہ کے لئے ہو۔جو بات ہو خدا کے واسطے ہو۔مسلمانوں میں ادبار اور زوال آنے کی یہ بڑی بھاری وجہ ہے“۔یعنی کمزوریاں اور گراوٹ جو آئی ہے اس کی یہی وجہ ہے، ورنہ اس قدر کا نفرنسیں اور انجمنیں اور مجلسیں ہوتی ہیں اور وہاں بڑے بڑے لستان اور لیکچرار اپنے لیکچر پڑھتے اور تقریریں کرتے شاعر قوم کی حالت پر نوحہ خوانیاں کرتے ہیں۔وہ بات کیا ہے کہ اس کا کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔قوم دن بدن ترقی کی بجائے تنزل ہی کی طرف جاتی ہے“۔فرمایا کہ: ”بات یہی ہے کہ ان مجلسوں میں آنے جانے والے اخلاص لے کر نہیں جاتے۔(ملفوظات جلد اول صفحه 265-266ـ الحكم جلد ٤ نمبر ۳ صفحه تا ۱۱ خط عبدالكريم مؤرخه ۱۹۰۰ء) بعض دفعہ لوگ جلسے کے دوران باہر آ جاتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ فلاں مقرر کا جو انداز ہے، جس طرح وہ بیان کر رہا ہے میں تو اس طرح نہیں سن سکتا اس لئے باہر آ گیا ہوں۔یہ بھی ایک طرح کا تکبر ہے۔اور چاہے کوئی مقرر دھواں دار تقریر کرتا ہے یا نہیں ، چاہے وہ اپنے الفاظ اور آواز کے جادو سے آپ کے جذبات کو ابھارتا ہے یا نہیں، تقریریں سنیں اور ان میں علمی اور روحانی نکتے تلاش کریں اور پھر ان سے فائدہ اٹھائیں۔فرمایا کہ جو صرف آواز اور الفاظ کے جادو سے متاثر ہونے والے ہوتے ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کرتے کیونکہ وقتی اثر ہوتا ہے اور مجلس سے اٹھ کر جاؤ تو اثر ختم ہو گیا۔اور یہی بات ایک احمدی میں نہیں ہونی چاہئے۔پھر آپ نے فرمایا کہ : ” اس جلسہ سے مدعا اور اصل مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں اور ان کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی