خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 47

$2004 47 خطبات مسرور کرو۔اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک تیرے پاس بڑھاپے کی عمر کو پہنچے یا وہ دونوں ہی ، تو انہیں اُف تک نہ کہہ اور انہیں ڈانٹ نہیں اور انہیں نرمی اور عزت کے ساتھ مخاطب کر۔اور ان دونوں کے لئے رحم سے بجز کا پر جھکا اور کہہ کہ اے میرے رب ! ان دونوں پر رحم کر جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری تربیت کی۔اس آیت میں سب سے پہلے یہ بات بیان فرمائی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور وہ خدا جس نے تمہیں اس دنیا میں بھیجا اور تمہیں بھیجنے سے پہلے قسم قسم کی تمہاری ضروریات کا خیال رکھا اور اس کا انتظام بھی کر دیا۔اور پھر یہ کہ اس کی عبادت کر کے اور اس کا شکر ادا کر کے تم اس کے فضلوں کے وارث ٹھہرو گے اور سب سے بڑا فضل جو اس نے ہم پر کیا وہ یہ ہے کہ تمہیں ماں باپ دئے جنہوں نے تمہاری پرورش کی بچپن میں تمہاری بے انتہاء خدمت کی، راتوں کو جاگ جاگ کر تمہیں اپنے سینے سے لگایا۔تمہاری بیماری اور بے چینی میں تمہاری ماں نے بے چینی اور کرب کی راتیں گزاریں، اپنی نیندوں کو قربان کیا، تمہاری گندگیوں کو صاف کیا۔غرض کہ کون سی خدمت اور قربانی ہے جو تمہاری ماں نے تمہارے لئے نہیں کی۔اس لئے آج جب ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے تم منہ پرے کر کے گزرنہ جاؤ، اپنی دنیا الگ نہ بساؤ اور یہ نہ ہو کہ تم ان کی فکر تک نہ کرو۔اور اگر وہ اپنی ضرورت کے لئے تمہیں کہیں تو تم انہیں جھڑ کنے لگ جاؤ۔فرمایا نہیں، بلکہ وہ وقت یاد کرو جب تمہاری ماں نے تکالیف اٹھا کر تمہاری پیدائش کے تمام مراحل طے کئے۔پھر جب تم کسی قسم کی کوئی طاقت نہ رکھتے تھے تمہیں پالا پوسا تمہاری جائز و نا جائز ضرورت کو پورا کیا۔اور آج اگر وہ ایسی عمر کو پہنچ گئے ہیں جہاں انہیں تمہاری مدد کی ضرورت ہے جو ایک لحاظ سے ان کی اب بچپن کی عمر ہے، کیونکہ بڑھاپے کی عمر بھی بچپن سے مشابہ ہی ہے۔ان کو تمہارے سہارے کی ضرورت ہے۔تو تم یہ کہہ دو کہ نہیں، ہم تو اپنے بیوی بچوں میں مگن ہیں ہم خدمت نہیں کر سکتے۔اگر وہ بڑھاپے کی وجہ سے کچھ ایسے الفاظ کہہ دیں جو تمہیں ناپسند ہوں تو تم انہیں ڈانٹنے لگ جاؤ، یا مارنے تک سے گریز نہ کرو۔