خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 500
$2004 500 مسرور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجلس کی ہر بات امانت ہوتی ہے سوائے تین قسم کی مجالس کے نمبر 1 ایسی مجالس جن میں ناحق خون کرنے کا منصوبہ ہو۔نمبر 2 بدکاری کرنے کا منصوبہ ہو اور نمبر 3، ایسی مجالس جن میں کسی کا ناحق مال دبانے کا منصوبہ ہو۔(ابو داؤد کتاب الادب باب في نقل الحدیث) تو فرمایا کہ ایسی مجالس جن سے کسی کے ذاتی نقصان کا یا قومی نقصان کے احتمال کا ، اندیشے کا اظہار ہوتا ہو وہ ضرور متعلقہ لوگوں تک پہنچائی جانی چاہئیں۔اس کے علاوہ باقی سب امانت ہے۔کیونکہ اگر یہ باتیں نہیں پہنچائیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بھی اس جرم میں شریک ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے مجلسیں برخاست کرنے کے بارے میں کہ مجلس برخاست کرتے یا مجلس سے اٹھتے ہوئے آنحضرت ﷺ کا کیا طریق تھا اور ہمیں آپ نے کیا سکھایا۔حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کا یہ معمول تھا کہ جب مجلس برخاست کرنا ہوتی اور آپ اٹھنا چاہتے تو مجلس کے آخر پر یہ دعا کرتے : ”اے اللہ تو پاک ہے اور تیری حمد کی قسم میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں تجھ سے مغفرت کا طلبگار ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں“۔(ابوداؤد) کتاب الادب باب في كفارة المجلس) ایک مرتبہ اسی طرح آپ نے دعا کی تو ایک شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ ! اب آپ ایک ایسی دعا کرنے لگ گئے ہیں کہ پہلے آپ نہیں کیا کرتے تھے۔اس پر آپ نے فرمایا یہ دعا ان باتوں کا کفارہ ہوگی جو مجلس میں ہو جاتی ہیں۔(ابوداؤ د کتاب الادب باب في كفارة المجلس) یعنی آپ نے یہ سکھایا کہ مجلس میں بعض ایسی باتیں بھی ہو جاتی ہیں جو تکلیف دہ ہوتی ہیں ان کے کفارے کے طور پر۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کچھ ایسے کلمات ہیں جس نے بھی ان کو اپنی مجلس سے اٹھتے ہوئے تین مرتبہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ ان کے طفیل اس کے وہ گناہ جو اس نے وہاں کئے ہوں گے ان کو ڈھانپ دے گا۔اور جس نے یہ کلمات کسی خیر کی مجلس میں اور ذکر الہی کی مجلس میں پڑھے تو ان کے ساتھ اس پر مہر کر دی جائے گی جیسے کہ مہر کے ساتھ کسی صحیفہ پر مہر کر دی جاتی ہے۔اور