خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 459
$2004 459 مسرور ایک دفعہ مسجد میں مستورات کا ذکر چل پڑا تو ان کے متعلق احمدی احباب میں سے سر بر آوردہ ممبر کا ذکر سنایا کہ ان کے مزاج میں اول سختی تھی عورتوں کو ایسا رکھا کرتے تھے جیسے زندان میں رکھا کرتے ہیں یعنی قید میں رکھا کرتے ہیں۔اور ذرا وہ نیچے اترتیں تو ان کو مارا کرتے۔لیکن شریعت میں حکم ہے که وَعَاشِرُوْ هُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ) (نساء :۲۰)۔نمازوں میں عورتوں کی اصلاح اور تقویٰ کے لئے دعا کرنی چاہئے۔قصاب کی طرح برتاؤ نہ کریں فرمایا کہ قصائی کی طرح برتاؤ نہ کریں ) " کیونکہ جب تک خدا نہ چاہے کچھ نہیں ہوسکتا۔(ملفوظات جلد۔سوم صفحه ۱۱۸ البدر ۱۳ مارچ ۱۹۰۳) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنی اہلیہ اور اس کے اقارب سے ( یعنی اس کے رشتہ داروں سے بھی ) نرمی اور احسان کے ساتھ معاشرت نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۹) پھر مرد کے فرائض میں سے بچوں کے حقوق بھی ہیں۔حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ابرار کو اللہ تعالیٰ نے ابرار اس لئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے والدین اور بچوں کے ساتھ حسن سلوک کیا۔جس طرح تم پر تمہارے والد کا حق ہے اسی طرح تم پر تمہارے بچے کا حق ہے۔الادب المفرد للبخاری باب بر الأب لولده حضرت ابو ہریرہ روایت بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اس کے ساتھ اس کا ایک چھوٹا بچہ تھاوہ اسے اپنے ساتھ چمٹانے لگا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اس پر رحم کرتا ہے؟ اس پر اس نے کہا جی حضور ! تو حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھ پر اس سے بہت زیادہ رحم کرے گا جتنا تو اس پر کرتا ہے اور وہ خدا ارحم الراحمین ہے۔الادب المفرد للبخاری باب رحمة العيال۔پھر حضرت ایوب اپنے والد اور اپنے دادا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی