خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 457 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 457

$2004 457 خطبات مسرور الْخَيْرَاتِ که نرمی کرونر می کردو کہ تمام نیکیوں کا سرنرمی ہے فرمایا کہ حتی المقدور پہلا فرض مومن کا ہر ایک کے ساتھ نرمی حسن اخلاق ہے اور بعض اوقات تلخ الفاظ کا استعمال بطور تلخ دوا کے جائز ہے۔اربعین نمبر ۳ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ٤٢٩٠٤٢٨ - حاشيه | اس الہام پر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حاشیہ رقم فرمایا ہے اس میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ ” اس الہام میں تمام جماعت کے لئے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں۔وہ ان کی کنیزیں نہیں ہیں۔در حقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے۔پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدے میں دغا باز نہ ٹھہرو۔اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے وَعَاشِرُوْ هُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ) یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔اور حدیث میں ہے خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاهْلِه یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ان کے لئے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کرو۔کیونکہ نہایت بدخدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو گندے برتن کی طرح مت توڑو۔(ضمیمه تحفه گولڑویه - روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ٧٥ـ حاشيه وتذكره صفحه ٣٩٧،٣٩٦) پھر فرمایا: ” اسی طرح عورتوں اور بچوں کے ساتھ تعلقات اور معاشرت میں لوگوں نے غلطیاں کھائی ہیں اور جادہ مستقیم سے بہک گئے ہیں۔سیدھے رستے سے ہٹ گئے ہیں۔” قرآن شریف میں لکھا ہے کہ ﴿ وَعَاشِرُوْ هُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مگر اب اس کے خلاف عمل ہورہا ہے۔فرمایا کہ ” دو قسم کے لوگ اس کے متعلق بھی پائے جاتے ہیں ایک گروہ تو ایسا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو بالکل خلیج الرسن کر دیا ہے“۔(یعنی بے حیائی کرنے کی کھلی چھٹی دے دی ہے ) ”دین کا ان پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا اور وہ کھلے طور پر اسلام کے خلاف کرتی اور کوئی ان سے نہیں پوچھتا۔بعض ایسے ہیں انہوں نے خلیج الرسن تو نہیں کیا مگر اس کے بالمقابل ایسی سختی اور پابندی کی ہے کہ ان میں اور حیوانوں میں کوئی