خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 428
$2004 428 خطبات مسرور اڑانے والے یا استہزاء کرنے والے ہوں اور نہ ہی ایسی مجلسوں میں بیٹھنے والے ہوں جہاں لوگوں کا ہنسی ٹھٹھا اڑایا جا رہا ہو۔نہ ہی فضول قصے کہانیاں، لغو اور بیہودہ باتوں کی مجلسوں میں بیٹھنے والے، نہ ان میں شامل ہونے والے ہوں۔یا رات گئے تک لمبی مجلسیں لگا کر گپیں مارنے والے ہوں کہ صبح کی نماز پر آنکھ ہی نہ کھلے۔ویسے بھی فضول مجلسیں دلوں کو زنگ آلود کر دیتی ہیں۔تو نہ صرف ایسی مجلسوں میں شامل نہیں ہونا بلکہ ایسی مجلسیں لگانے والے احمدیوں کو بھی سمجھا کر ایسی مجلسوں کو ختم کرانے کی کوشش کرنی ہے۔کیونکہ یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے محروم کر دیں گی۔اور پھر دل تقویٰ سے خالی ہو جائیں گے۔تو یہ تو کسی صورت بھی ایک احمدی کے لئے برداشت نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے اس کا دل خالی ہو جائے۔یادرکھیں کہ جب انسان تقویٰ سے خالی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دور چلا جاتا ہے تو پھر یہ نہ سمجھیں کہ آپ کے دنیاوی بندھن اور رشتے قائم رہیں گے۔پھر دنیا وی رشتوں اور تعلقات میں بھی دراڑیں پڑنی شروع ہو جاتی ہیں۔یہ بھی ٹوٹنے شروع ہو جائیں گے اور ایک فساد کی صورت پیدا ہو جائے گی۔اس لئے ایسے سفر جو اللہ کے نام کی خاطر کئے جاتے ہیں ان میں بہت زیادہ تقویٰ کا خیال رکھیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں حج کے متعلق ارشاد فرمایا ہے وہاں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ سب سے بہتر زادراہ تقویٰ ہی ہے۔جیسا کہ فرمایا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادَ التَّقْوى﴾ (البقرة: ۱۹۸) اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو صرف حج پر جانے والے ہیں وہی زادراہ جمع کریں اور تقویٰ پر قائم ہو جائیں یا صرف ان کے لئے بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔بلکہ فرمایا کہ جو تمہارے سفر خاص طور پر اللہ کی خاطر سفر ہوں دین کی خاطر ہوں، ان میں بہت زیادہ تقویٰ کا خیال رکھو۔اگر اس پر تم قائم ہو گئے تو اپنی ذاتی اصلاح کا بھی موقع ملے گا اور اس طرح تم اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے بھی ہو گے۔اللہ تعالیٰ سے تمہارا اخلاص کا تعلق بڑھے گا اس کی معرفت زیادہ سے زیادہ حاصل ہوگی۔اور پھر تمہاری اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے اور انسانوں سے بھی محبت بڑھے گی۔اور جب یہ چیزیں پیدا ہو جائیں گی تو پھر