خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 400
$2004 400 مسرور پھر آپ نے فرمایا: ” اصلاح نفس کی ایک راہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے ﴿كُوْنُوْا مَعَ الصَّدِقِينَ۔یعنی جو لوگ قولی فعلی عملی اور حالی رنگ میں سچائی پر قائم ہیں“۔یعنی باتیں بھی ، ان کے عمل بھی اور ان کی ہر حرکت بھی ایسی ہو اور ان کا حال بھی یہ ظاہر کر رہا ہو کہ وہ سچائی پر قائم ہیں ”ان کے ساتھ رہو۔اس سے پہلے فرمایا يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ یعنی اے ایمان والو تقویٰ اللہ اختیار کرو۔اس سے مراد یہ ہے کہ پہلے ایمان ہو پھر سنت کے طور پر بدی کی جگہ کو چھوڑ دے اور صادقوں کی صحبت میں رہے۔صحبت کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے جواندر ہی اندر ہوتا چلا جاتا ہے۔اگر کوئی شخص ہر روز کنجریوں کے ہاں جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ کیا میں زنا کرتا ہوں۔اس سے کہنا چاہئے کہ ہاں تو کرے گا اور وہ ایک نہ ایک دن اس میں مبتلا ہو جاوے گا کیونکہ صحبت میں تاثیر ہوتی ہے۔اسی طرح پر جوشخص شراب خانے میں جاتا ہے۔خواہ وہ کتنا ہی پر ہیز کرے اور کہے کہ میں نہیں پیتا ہوں۔لیکن ایک دن آئے گا کہ وہ ضرور پیئے گا۔پس اس سے کبھی بے خبر نہیں رہنا چاہئے کہ صحبت میں بہت بڑی تاثیر ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصلاح نفس کیلئے كُوْنُوْا مَعَ الصَّدِقِيْنَ ) کا حکم دیا۔ہے۔جو شخص نیک صحبت میں جاتا ہے خواہ وہ مخالفت ہی کے رنگ میں ہولیکن وہ صحبت اپنا اثر کئے بغیر نہ رہے گی اور ایک نہ ایک دن وہ اس مخالفت سے باز آ جائے گا۔(الحكم جلد۸ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ١٩٠٤ء صفحه ٤) تو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا کہ ایسی گندی جگہوں پر جا کر اگر پھر کوئی کہتا ہے میں کون سا یہ کام کر رہا ہوں۔شراب خانے میں جا کر اگر کہے کہ میں کون سی شراب پی رہا ہوں تو فرمایا کہ ایک دن وہ اس ماحول کے زیر اثر آجائے گا۔اور ہوسکتا ہے کہ پینا شروع کر دے۔اس لئے حدیث میں بھی آیا ہے شراب کی ہر قسم کی مناہی کی گئی ہے پلانے کیلئے بھی اور بنانے والے کیلئے بھی اور کشید کرنے کیلئے بھی سب کچھ۔کچھ سال پہلے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسی لئے فرمایا تھا کہ جو یہاں آکے ایسے ریسٹورنٹ میں کام کرتے ہیں جہاں شراب وغیرہ بیچی جاتی ہے تو اس