خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 392
خطبات مسرور $2004 392 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوْا اللَّهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصَّدِقِيْنَ﴾ (سورة توبه (119)۔ترجمہ : اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ جب بھی انبیاء مبعوث فرماتا ہے تو اس کے ماننے والے، اس پر ایمان لانے والے، تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے ہوتے ہیں۔اور ان کے تقویٰ کا اعلیٰ معیار اس لئے قائم ہورہا ہوتا ہے، اس کا اظہار اس لئے ہورہا ہوتا ہے، دنیا کو نظر آ رہا ہوتا ہے ( ان کی اپنی طرف سے نہیں ہوتا دنیا کو نظر آتا ہے ) اور ان کے اندر یہ تبدیلی اس لئے نظر آ رہی ہوتی ہے کہ انہوں نے اس قرب کی وجہ سے جو ان کو نبی سے ہے اللہ کی مدداور فضل سے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کی ہوتی ہے۔اور صرف یہی نہیں بلکہ وہ خود بھی اس بچی پیروی کی وجہ سے ، اس بچے ایمان کی و - جہ سے، اپنے اندر تقویٰ قائم ہونے کی وجہ سے، اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی وجہ سے، صادقوں میں شامل ہو گئے ہوتے ہیں۔اور پھر آگے بہت سوں کی رہنمائی کا باعث بنتے ہیں، بن رہے ہوتے ہیں، تو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے یہ فیض رک نہیں جاتا بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ورنہ تو اس آیت میں جو حکم ہے کہ كُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ اس کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔اگر یہ عمل رکنے والا ہو تو یہ حکم تاریخ کا حصہ بن جائے