خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 372
خطبات مسرور $2004 372 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔(سورة حم سجده : ۳۴) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ بات کہنے میں اس سے بہتر کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک اعمال بجالائے اور کہے کہ میں یقیناً کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو بات پسند ہے وہ یہ ہے کہ اس کی مخلوق شیطان کے چنگل سے نکل کر اس کی عبادت بجالانے والی ہو۔باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو کھلی چھٹی دے دی، ٹھیک ہے تم میرے بندوں کو ورغلانے کی کوشش کرنا چاہتے ہو تو کرتے رہو، ان کو نیکی کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرنا چاہتے ہو تو کرتے رہو لیکن ساتھ یہ فرما دیا کہ میرے بندے جو نیکی پر قائم رہیں گے ان کو نیکی پر قائم رکھنے کے لئے میرے انبیاء دنیا میں آتے رہیں گے اور ان کے ماننے والوں میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو میری عبادت بجالانے والے اور میری طرف جھکنے والے اور مخلوق کو میری طرف لانے کا فریضہ انجام دینے والے ہوں گے۔اور فرمایا کہ یہی لوگ ہیں نیکیوں پر قائم رہنے والے جو فلاح پانے والے ہوں گے۔اور یہی لوگ ہیں جو میری ابدی جنتوں کے وارث ہوں گے جو لوگوں کو نیکی کی تلقین کرنے والے ہوں گے اور عبادات بجالانے والے ہوں گے۔جس طرح کہ میں نے کہا اور نیک اعمال بجالانے والے ہوں گے اور اس درد کے ساتھ نیکیوں کی تلقین کرنے والے اور نیکیوں پر قائم رہنے والے ہوں گے کہ اے شیطان ! تو ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔لیکن کیونکہ