خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 362 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 362

$2004 362 خطبات مسرور رعایت کی اجازت کو ختم کروا دیں اور چندہ پوری شرح سے ادا کریں اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ جلد ہی دوبارہ اس نظام میں شامل ہو جائیں جہاں پوری شرح پہ چندہ دیا جا سکے۔ایسے لوگ بہت سارے ہیں اور جو نہیں ہیں ان کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔ہر ایک شخص کا خود بھی فرض بنتا ہے کہ اپنا جائزہ لیتا رہے تا کہ جب بھی توفیق ہو اور کچھ حالات بہتر ہوں جتنی جلدی ہو سکے شرح کے مطابق چندہ دینے کی کوشش کی جائے ، اللہ تعالیٰ سب کی توفیق میں اضافہ کرے۔بعض دفعہ ایسے حالات آ جاتے ہیں کہ مثلاً ملازمت چھوٹ گئی یا کوئی اور وجہ بن گئی ، زمینداروں کی مثال میں پہلے دے آیا ہوں، کاروباری لوگوں کے بھی کاروبارمندے ہو جاتے ہیں یا بعض دفعہ ایسے حالات پیش آ جاتے ہیں کہ کاروبار کوفروخت کرنا پڑتا ہے، بیچنا پڑتا ہے ختم کرنا پڑتا ہے۔تو گو یہ ساری باتیں انسان کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہی ہو رہی ہوتی ہیں۔اس کا نتیجہ انسان بھگتا ہے، یہ تو ایک علیحدہ مضمون ہے۔بہر حال ایسے حالات سے بھی مایوس ہو کر بیٹھ نہیں جانا چاہئے بلکہ کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہئے، ہاتھ پیر مارتے رہنا چاہئے ، چاہے چھوٹا موٹا کام ہی ہو، انسان کو کسی بھی کام کوضرور کرنا چاہئے۔کئی لوگ ایسے ملتے ہیں جو بہت زیادہ مایوس ہو جاتے ہیں اور پریشانی کا شکار ہوتے ہیں، ان کو بھی اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا چاہئے۔اور اس سے مدد مانگتے ہوئے جو بھی چھوٹا موٹا کوئی کام ملے یا کاروبار ہو اس کو دوبارہ نئے سرے سے شروع کرنا چاہئے۔اور کسی کام کو بھی عار نہیں سمجھنا چاہئے۔اگر اس نیت سے یہ کام شروع کریں گے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ چندے دینے ہیں پھر چندے پورے کرنے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان چھوٹے کاروباروں میں بھی بے انتہا برکت ڈالتا ہے۔میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے، بالکل معمولی کاروبار شروع کیا، وسیع ہوتا گیا اور دکانوں کے مالک ہو گئے چھابڑی لگاتے لگاتے۔تو یہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں جو ہوتے ہیں اگر نیت نیک ہو اور اس کی راہ میں خرچ کرنے کے ارادے سے ہو۔تو پھر وہ برکت بھی بے انتہاڈالتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو مسعود انصاری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی