خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 357
$2004 357 خطبات مسرور ہے۔جب تک تم اپنے خرچ کے حساب کو صاف نہیں کرتے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کے حساب کو صاف نہیں رکھتے ، جب تک تم اس مال میں سے جو تمہیں بہت عزیز ہے، جس سے تمہیں بڑی محبت ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اور یہ مال جو ہے اپنا جب تک تم اپنے مال کو صرف اپنے پر خرچ کرنے کی سوچتے رہو گے یا سنبھال کر تجوریوں میں بند کر لو گے، ان کنجوسوں اور بخیلوں کی طرح جو اپنی آل اولا د پر بھی بعض اوقات مال خرچ نہیں کرتے اور جمع کرتے رہتے ہیں اور آخر کار اس دنیا سے چلے جاتے ہیں اور مال ان کے کچھ بھی کام نہیں آتا۔فرمایا یہ بھی یاد رکھو کہ جو تم خرچ کرتے ہو اور جتنا تم بجٹ لکھواتے ہو اور جتنی تمہاری آمد ہے یہ سب اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔اس لئے اس سے معاملہ ہمیشہ صاف رکھو۔نیکی کا ثواب اللہ تعالیٰ سے حاصل کرنے کے لئے اپنی تشخیص بھی صحیح کر واؤ اور ادائیگیاں بھی صحیح رکھو تاکہ تمہاری روحانی حالت بھی بہتر ہو اور تم نیکیوں میں ترقی کرسکو۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ : "پھر روحانی طور پر اس انفاق کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے اپنا مال خرچ کرتا ہے وہ آہستہ آہستہ دین میں مضبوط ہوتا جاتا ہے اسی وجہ سے میں نے اپنی جماعت کے لوگوں کو بارہا کہا ہے۔کہ جو شخص دینی لحاظ سے کمزور ہو وہ اگر اور نیکیوں میں حصہ نہ لے سکے اس سے چندہ ضرور لیا جائے کیونکہ جب وہ مال خرچ کرے گا تو اس سے اس کو ایمانی طاقت حاصل ہوگی اور اس کی جرات اور دلیری بڑھے گی اور وہ دوسری نیکیوں میں بھی حصہ لینے لگ جائے گا“۔(تفسیر کبیر جلد دوم صفحه ٦١٢) ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ ! خرچ کرنے والے سخی کو اور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اور پیدا کر دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ ! روک رکھنے والے کنجوس کو ہلا کت دے اور اس کا مال و متاع برباد کر دے۔(بخاری کتاب الزكواة باب قول الله فاما من اعطى واتقى۔۔۔۔۔۔۔۔