خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 31
$2004 31 مسرور پھر حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی قربانی کا بھی ایک واقعہ ہے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ: ایک دفعہ اول زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لدھیانہ میں کسی ضروری تبلیغی اشتہار کے چھپوانے کے لئے ساٹھ روپے کی ضرورت پیش آئی۔اس وقت حضرت صاحب کے پاس اس رقم کا انتظام نہیں تھا اور ضرورت فوری اور سخت تھی۔منشی صاحب کہتے تھے کہ میں اس وقت حضرت صاحب کے پاس لدھیانہ میں اکیلا آیا ہوا تھا۔حضرت صاحب نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ اس وقت یہ اہم ضرورت درپیش ہے۔کیا آپ کی جماعت اس رقم کا انتظام کر سکے گی۔میں نے عرض کیا حضرت انشاء اللہ کر سکے گی۔اور میں جا کر روپے لاتا ہوں۔چنانچہ میں فوراً کپورتھلہ گیا۔اور جماعت کے کسی فرد سے ذکر کرنے کے بغیر اپنی بیوی کا ایک زیور فروخت کر کے ساٹھ روپے حاصل کئے اور حضرت صاحب کی خدمت میں لا کر پیش کر دیئے حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور جماعت کپورتھلہ کو ( کیونکہ حضرت صاحب یہی سمجھتے تھے کہ اس رقم کا جماعت نے انتظام کیا ہے ) دعا دی۔چند دن کے بعد منشی اروڑا صاحب بھی لدھیانہ گئے تو حضرت صاحب نے ان سے خوشی کے لہجہ میں ذکر فرمایا کہ منشی صاحب اس وقت آپ کی جماعت نے بڑی ضرورت کے وقت امداد کی۔منشی صاحب نے حیران ہو کر پوچھا ” حضرت کون سی امداد؟ مجھے تو کچھ پتہ نہیں حضرت صاحب نے فرمایا۔یہی جونشی ظفر احمد صاحب جماعت کپورتھلہ کی طرف سے ساٹھ روپے لائے تھے۔منشی صاحب نے کہا ” حضرت ! منشی ظفر احمد صاحب نے مجھ سے تو اس کا کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی جماعت سے ذکر کیا۔اور میں ان سے پوچھوں گا کہ ہمیں کیوں نہیں بتایا۔اس کے بعد منشی اروڑا صاحب میرے پاس آئے اور سخت ناراضگی میں کہا کہ حضرت صاحب کو ایک ضرورت پیش آئی اور تم نے مجھ سے ذکر نہیں کیا۔میں نے کہا منشی صاحب تھوڑی سی رقم تھی اور میں نے اپنی بیوی کے زیور سے پوری کر دی۔اس میں آپ کی ناراضگی کی کیا بات ہے۔مگر منشی صاحب کا غصہ کم نہ ہوا اور وہ برابر یہی کہتے رہے کہ حضرت صاحب کو ایک ضرورت پیش آئی تھی اور تم نے یہ ظلم کیا کہ مجھے نہیں بتایا۔پھر