خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 341 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 341

$2004 341 خطبات مسرور متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا۔ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں تو حید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔سو تم اس مقصد کی پیروی کرو۔مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے اور جب تک کوئی خدا سے روح القدس پاکر کھڑا نہ ہو سب میرے بعد مل کر کام کرو۔(رساله الوصيت - روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۴ تا ۳۰۷ چنانچہ دیکھ لیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد آپ نے ہمیں خوشخبریاں بھی دے دی تھیں کہ آپ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے انشاء اللہ خلافت دائمی رہے گی اور دشمن دو خوشیاں کبھی نہیں دیکھ سکے گا کہ ایک تو وفات کی خبر اس کو پہنچے اور اس پر خوش ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر ایسے بھی تھے جنہوں نے خوشیاں منائیں اور پھر یہ کہ وہ جماعت کے ٹوٹنے کی خوشی وہ دیکھ سکیں گے، یہ کبھی نہیں ہو گا۔دشمن نے بڑا شور مچایا، بڑا خوش تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ تھا کہ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا کا ہمیں نظارہ بھی دکھایا۔اور بعض لوگوں کا خیال تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اب کافی عمر رسیدہ ہو چکے ہیں، طبیعت کمزور ہو چکی ہے اور شاید اس طرح خلافت کا کنٹرول نہ رہ سکے اور شاید وہ خلافت کا بوجھ نہ اٹھاسکیں اور انجمن کے بعض عمائدین کا خیال تھا کہ اب ہم اپنی من مانی کر سکیں گے۔کیونکہ عمر کی وجہ سے بہت سارے معاملات ایسے ہیں جو اگر ہم حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی خدمت میں نہ بھی پیش کریں تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ان کو پتہ نہیں چلے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے دشمن کی یہ تمام اندرونی اور بیرونی جو بھی تدبیریں تھیں ان کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور اندرونی فتنے کو بھی دبا دیا اور دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ہر موقع پر حضرت خلیفہ اسی الاول نے اس فتنہ کو دبایا اور کتنے زور اور شدت سے اس کو دبایا اور کس طرح دشمن کا منہ بند کیا۔آپ فرماتے ہیں: