خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 329
$2004 329 خطبات مسرور خدا کہہ دیتا ہے کہ ہم نے تجھ کو بخش دیا۔اب تیرا جو جی چاہے سو کر۔اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے دل کو بدل دیا اور اب گناہ اسے بالطبع برا معلوم ہو گا جیسے بھیڑ کو میلا کھاتے دیکھ کر دوسرا حرص نہیں کرتا کہ وہ بھی کھادے اسی طرح وہ انسان بھی گناہ نہ کرے گا جسے خدا نے بخش دیا ہے۔مسلمانوں کو خنزیر کے گوشت سے بالطبع کراہت ہے۔حالانکہ اور دوسرے ہزاروں کام کرتے ہیں جو حرام اور منع ہیں۔تو اس میں حکمت یہی ہے کہ ایک نمونہ کراہت کا رکھ دیا ہے اور اسے سمجھا دیا ہے کہ اس طرح انسان کو گناہ سے نفرت ہو جاوے۔(ملفوظات جلد اول صفحه ۳ ـ البدر ۱۹ دسمبر ۱۹۰۲) پس اگر انسان کے دل میں گناہ سے نفرت ہو جائے اور پھر اصلاح کی طرف قدم بڑھنا شروع ہو جائے تو آہستہ آہستہ تمام برائیاں دور ہو جاتی ہیں۔اب بعض شکایات آتی ہیں بعض نوجوانوں میں اور بعض ایسی پختہ عمر کے لوگوں میں بھی کہ نظام جماعت سے تعاون نہیں ہے، تربیتی طور پر بہت کمزور ہیں، فلمیں گندی دیکھ رہے ہوتے ہیں گھروں میں بھی ، ٹی وی کے ذریعے سے یا انٹرنیٹ کے ذریعے سے۔تو جب تک ہم اپنے گھروں میں یہ احساس نہیں پیدا کریں گے اپنے بچوں میں بھی اور اپنے آپ میں بھی یہ احساس نہیں پیدا کریں گے اور جب تک ہمارے قول و فعل میں تضاد ہو گا اصلاح کی کوئی صورت نہیں نکل سکتی۔بیعت کرنے کے بعد ہمارے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کے دعوے بالکل کھو کھلے ہوں گے۔ان گندے پروگراموں کو دیکھ کر اپنے اخلاقی اور روحانی نقصان کے علاوہ مالی نقصان بھی کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ اکثر ایسے پروگرام کچھ خرچ کرنے کے بعد ہی میسر آتے ہیں۔تو ہماری توبہ واستغفار ایسی ہونی چاہئے کہ ہمارا ان باتوں کی طرف خیال ہی نہ جائے ، توجہ ہی نہ ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” انسان پر قبض اور بسط کی حالت آتی رہتی ہے۔بسط کی حالت میں ذوق اور شوق بڑھ جاتا ہے اور قلب میں ایک انشراح پیدا ہوتا ہے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ بڑھ جاتی ہے نمازوں میں لذت اور سرور پیدا ہوتا ہے لیکن بعض وقت ایسی حالت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ذوق اور شوق جاتا رہتا ہے اور دل میں ایک تنگی کی حالت ہو