خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 28

$2004 28 خطبات مسرور کمائی میں سے اللہ کی راہ میں دی۔اور اللہ تعالیٰ پاک چیز کو ہی قبول فرماتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کھجور کو دائیں ہاتھ سے قبول فرمائے گا اور اسے بڑھاتا چلا جائے گا یہاں تک کہ وہ پہاڑ جتنی ہو جائے گی۔جس طرح تم میں سے کوئی اپنے چھوٹے سے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک بڑا جانور بن جاتا ہے۔(بخاری کتاب الزکواۃ باب الصدقة من كسب طيب) آج جماعت میں ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کے بزرگوں نے تکلیفیں اٹھا کر اپنی پاک کمائی میں سے جو قربانیاں کیں اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلوں کے اموال ونفوس بے انتہاء برکت ڈالی۔پھر روایت ہے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: میں نے مسجد نبوی کے منبر پر رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! جہنم کی آگ سے بچو اگر چہ تمہارے پاس کھجور کا آدھا ہی ٹکڑا ہو ، وہی دے کر آگ سے بچو۔اس لئے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا انسان کی کبھی کو درست کرتا ہے۔بُری موت مرنے سے بچاتا ہے اور بھوکے کا پیٹ بھرتا ہے“۔(الترغیب و الترهيب) تو اللہ تعالیٰ کی خاطر کی ہوئی قربانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس دنیا میں بھی راستے سے بھٹکنے سے بچاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے شخص سے ایسے اعمال سرزد ہوتے ہیں جن سے اس کا انجام بھی بخیر ہو۔حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو شخصوں کے سوا کسی پر رشک نہیں کرنا چاہئے۔ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اسے راہ حق میں خرچ کر دیا۔دوسرے وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے سمجھ ، دانائی اور علم وحکمت دی جس کی مدد سے وہ لوگوں کے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا بھی ہے۔(بخاری کتاب الزكوة باب انفاق المال في حقه)