خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 289 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 289

289 $2004 خطبات مسرور کے دودھ دینے والے جانور تھے، وہ رسول اللہ گوان کا دودھ تحفہ بھیجتے تھے، جو آپ ہمیں پلا دیتے تھے۔(بخارى كتاب الهبة وفضلها والتحريص عليها باب فضل الهبة ) حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ کو چکی پینے کی وجہ سے ہاتھوں میں تکلیف ہوگئی اور ان دنوں آنحضرت ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے تھے۔حضرت فاطمہ بحضور کے پاس گئیں لیکن مل نہ سکیں، حضرت عائشہ سے ملیں اور آنے کی وجہ بتائی جب حضور باہر سے تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے حضرت فاطمہ کے آنے کا ذکر کیا۔حضرت علی کہتے ہیں کہ اس پر آنحضرت ﷺ ہمارے گھر آئے ، ہم بستروں میں لیٹ چکے تھے، حضور کے تشریف لانے پر ہم اٹھنے لگے، آپ نے فرمایا نہیں لیٹے رہو۔حضور ہمارے درمیان بیٹھ گئے ، یہاں تک کہ حضور کے قدموں کی ٹھنڈک حضرت علی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے سینے پر محسوس کی۔پھر آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے سوال سے بہتر چیز نہ بتاؤں، جب تم بستروں میں لیٹنے لگو تو 34 دفعہ اللہ اکبر کہو، 33 دفعہ سبحان اللہ اور 33 دفعہ الحمد للہ کہو، یہ تمہارے لئے ایک نوکر سے بہتر ہے یعنی ان کلمات کی بدولت اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے گا۔اور اس قسم کے سوال سے بے نیاز ہو جاؤ گے۔آج بھی ہر حاجتمند کو یہ طریق اپنانا چاہئے۔( حديقة الصالحين صفحه ۲۳۳) حضرت علی فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ کی شادی کے موقع پر نبی کریم نے ان کو بنیادی ضرورت کا صرف تھوڑ اسا سامان دیا تھا جو یہ تھا، ایک خویلا ریشمی چادر، چمڑے کا گدیلا جس میں کھجور کے ریشے تھے، آٹا پیسنے کی چکی ہمشکیزہ ، دوگھڑے یہ کل جہیز تھا جو حضرت فاطمہ کو دیا۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۱ صفحه ١٠٦ مطبوعه بيروت اب آجکل کی شادی بیا ہوں پر فضول خرچی اتنی ہوتی ہے کہ جس کی انتہا نہیں ہے، پاکستان ہندوستان وغیرہ میں بھی ، اور یورپ اور مغرب کے دوسرے ممالک میں بھی۔اب تو بعض لوگوں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ اس طرف لوگوں کو توجہ دلانی چاہئے۔ایک تو جہیز کی دوڑ لگی ہوئی ہے، زیور