خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 21
خطبات مسرور 21 $2004 والے بنو۔غلطیوں کی وجہ سے کسی کے پیچھے نہ پڑ جاؤ۔اور ان کی تشہیر نہ کرتے پھرو۔کسی کی غلطی کو دیکھ کر دوسروں کو بتاتے نہ پھرو بلکہ پردہ پوشی کی بھی عادت ڈالو۔پھر اس میں یہ بھی فرمایا کہ اپنے دل کو ٹٹولتے رہو، اس کو پاک رکھنے کی کوشش کرو، اپنا خود محاسبہ کرتے رہو۔کسی کے لئے بھی دل میں کینہ، نفرت، بغض، حسد وغیرہ نہ ہو۔کیونکہ اگر یہ چیزیں دل میں ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ دل بڑائی اور تکبر سے بھرا ہوا ہے اور اس میں عاجزی نہیں ہے۔پھر کسی کو اپنی باتوں سے دکھ نہ دو اور ہر ایک کی عزت کرو۔چاہے کوئی غریب ہو، فقیر ہو، کم طاقت کا ہو یا ما تحت ہو یا ملازم ہو سب کی عزت کرو۔پھر سلام کہنے کی عادت ڈالو۔اس سے بھی معاشرے میں محبت اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہوتی ہے اور عاجزی اور انکساری بڑھنے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، اپنے اندر بھی اور دوسرے ماحول میں بھی۔تو فرمایا کہ یہ کام تو بہت مشکل ہے اور یہ تب ہی کر سکتے ہو جب گویا کہ اپنے آپ کو مار لیا، اپنے نفس کو بالکل ختم کر دیا۔اور یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں ہو سکتا اس لئے ہمیشہ اس کا فضل مانگتے رہو۔اس کے سامنے جھکے رہو اور دعائیں کرتے رہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں عاجزی اور انکساری کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس بارہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے چند شعر ہیں وہ میں پڑھتا ہوں ؎ اے کرم خاک چھوڑ دے کبر وغرور کو زیبا ہے کبر حضرت غیور کو رب بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دارالوصال میں چھوڑ و غرور وکبر کہ تقویٰ اسی میں ہے