خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 252
252 $2004 خطبات مسرور جو دو صوبوں کے گورنر ہیں دونوں مسلمان ہیں، شہر سے باہر شہر کے گیٹ پر استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے۔باوجود اس کے کہ انہیں بھی وہاں ملاؤں نے کہا بعض مسلمان ملکوں سے بھی کافی مدد کی جاتی ہے اور زیادہ زور یہی ہوتا ہے کہ احمدیوں کے خلاف جو کر سکتے ہو کر و۔انہوں نے میئر کو بہت کہا کہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں، ان سے نہ ملو۔تو میئر نے اس کو کہا پھر تو میں ضرور جاؤں گا کہ دیکھوں مجھے پتہ تو لگے کہ کہتے کیا ہیں اور کرتے کیا ہیں۔جب مجھے اس نے وہاں ایڈریس پیش کیا تو وہاں اس نے برملا یہ اظہار کیا کہ اصل مسلمانوں والے کام تو جماعت احمد یہ کر رہی ہے وہ پورے ملک کے ہاؤس آف میئرز کے صدر بھی ہیں۔یہاں ہمارا انشاء اللہ نیا ہسپتال شروع ہونا ہے اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور بڑی اچھی جگہ پر یعنی مین روڈ کے اوپر اس شہر کے ساتھ 16ایکڑ جگہ ہے جو جماعت نے لی تھی ہسپتال کے لئے تو میئر نے ایک اور گیدرنگ میں یہ اعلان کیا کہ یہ جگہ تھوڑی ہے، پانچ ایکڑ میں اپنی طرف سے ہسپتال کے لئے اور دیتا ہوں۔یہاں ایک جگہ سے امام اور چیف تقریباً 400 دوسرے افراد مرد وزن 70 کے قریب عورتیں اور باقی مرد ) آئے ہوئے تھے اور بڑا دور کا سفر طے کر کے آئے تھے ان علاقوں میں بعض دفعہ بسیں نہیں چلتیں ، ٹرک ہائر کر کے اس پر بیٹھ کر آئے ہوئے تھے۔انہوں نے یہ کہا کہ ہم نے بیعت کرنی ہے، عرصہ سے ہم جماعت کو دیکھ رہے ہیں اور آج کے دن کا ہمیں انتظار تھا۔میں نے وہاں امیر صاحب اور مبلغ صاحب سے پوچھا کہ آپ کے علم میں تھا کہ انہوں نے بیعت کرنی ہے انہوں نے کہا نہیں ہمیں تو صرف یہ علم تھا کہ آپ سے صرف ملاقات کے لئے آئے ہیں یا صرف دیکھنے آئے ہیں۔میں نے ان امام اور چیف کو پوچھا ( وہ اچھے پڑھے لکھے لگ رہے تھے ) کہ تم جلدی تو نہیں کر رہے، تمہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے تمام دعاوی پر یقین ہے؟ امام، چیف اور دوسروں لوگوں نے کھل کے کہا کہ ہمیں پوری شرح صدر ہے۔ہم پوری شرح صدر سے احمدیت قبول کر رہے ہیں بلکہ یہ بھی کہا کہ ہزاروں لوگ اور ایسے ہیں جن کی معین تعداد بعد میں پتہ لگ جائے گی انشاء اللہ جلسے یہ بتاؤں گا جنہوں نے کہا تھا