خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 20
$2004 20 خطبات مسرور سب سے اول اپنے دلوں میں انکسار اور صفائی اور اخلاص پیدا کرو اور بیچ بیچ دلوں کے علیم اور سلیم اور غریب بن جاؤ کہ ہر یک خیر اور شر کا پیج پہلے دل ہی میں پیدا ہوتا ہے۔اگر تیرا دل شر سے خالی ہو تو تیری زبان بھی شر سے خالی ہوگی اور ایسا ہی تیری آنکھ اور تیرے سارے اعضاء۔ہر یک نور یا اندھیرا پہلے دل میں ہی پیدا ہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ تمام بدن پر محیط ہو جاتا ہے۔سواپنے دلوں کو ہر دم ٹولتے رہو۔پھر آپ نے فرمایا : ” اور عبادت کی فروع میں یہ بھی ہے کہ تم اس شخص سے بھی جو تم سے دشمنی رکھتا ہوا ایسی ہی محبت کرو جس طرح اپنے آپ سے اور اپنے بیٹوں سے کرتے ہو اور یہ کہ تم دوسروں کی لغزشوں سے درگزر کرنے والے اور ان کی خطاؤں سے چشم پوشی کرنے والے بنو اور نیک دل اور پاک نفس ہو کر پر ہیز گاروں والی صاف اور پاکیزہ زندگی گزارو۔اور تم بری عادتوں سے پاک ہو کر باوفا اور باصفا زندگی بسر کرو۔اور یہ کہ خلق اللہ کے لئے بلا تکلف و تصنع بعض نباتات کی مانند نفع رساں وجود بن جاؤ۔اور یہ کہ تم اپنے کبر سے اپنے کسی چھوٹے بھائی کو دکھ نہ دو۔اور نہ کسی بات سے اس (کے دل) کو زخمی کرو۔بلکہ تم پر واجب ہے کہ اپنے ناراض بھائی کو خاکساری سے جواب دو اور اسے مخاطب کرنے میں اس کی تحقیر نہ کرو اور مرنے سے پہلے مرجاؤ اور اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کر لو اور جو کوئی ( ملنے کے لئے ) تمہارے پاس آئے اس کی عزت کرو خواہ وہ پرانے بوسیدہ کپڑوں میں ہو نہ کہ نئے جوڑوں اور عمدہ لباس میں اور تم ہر شخص کو السلام علیکم کہ خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو اور (لوگوں کی ) غم خواری کے لئے ہر دم تیار کھڑے رہو۔(ترجمه عربی عبارت اعجاز المسیح از تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام جلد اول صفحه ۲۰۳ خلاصہ ان باتوں کا یہ ہوا کہ تم عاجزی دکھانے والے تب شمار کئے جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے تب ہو گے جب تم اپنے سے نفرت کرنے والوں سے بھی محبت کرو، جب ضرورت ہو تو ان کے کام آؤ اور ان کے لئے دعا کرو۔اور پھر دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے