خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 242 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 242

خطبات مسرور $2004 242 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيز (سورة المجادله آیت (۲۲) اس کا ترجمہ ہے کہ اللہ نے لکھ رکھا ہے ضرور میں اور میرے رسول غالب آئیں گے یقیناً اللہ بہت طاقتور اور کامل غلبہ والا ہے۔خدا تعالیٰ جب انبیاء کو دنیا میں مبعوث فرماتا ہے تو اس کے ساتھ ہی مخالفین کی طرف سے مخالفت کی آندھیاں بھی بڑی شدت سے چلنا شروع ہو جاتی ہیں۔لیکن انبیاء کو کیونکہ اپنے پیدا کرنے والے اور بھیجنے والے پر کامل یقین ہوتا ہے اس لئے ان کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ خدا ان کو مخالفت کی آندھیوں میں تنہا چھوڑ دے گا۔ہاں ان کے دلوں میں جواللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت ہوتی ہے اس کی وجہ سے وہ ڈرتے رہتے ہیں لیکن جوں جوں مخالفت کی آندھیاں بڑھتی ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کی ٹھنڈی ہوائیں بھی اسی تیزی سے بلکہ اس سے زیادہ تیزی سے بڑھ کر انبیاء اوران کے ماننے والوں کی تسلی کا باعث بنتی ہیں۔اور اس کے نظارے ہمیں تمام انبیاء کی زندگیوں میں نظر آتے ہیں۔اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جنگ بدر سے لے کر فتح مکہ تک کے نظارے ہمیں نظر آتے ہیں۔اور خدائی وعدہ کہ میں اور میرا رسول غالب آئیں گے پوری شان سے پورا ہوتا نظر آتا ہے۔تو یہ سنت اللہ ہے جو آج ختم نہیں ہو گئی آج بھی اسے پورا ہوتے ہم دیکھ رہے ہیں۔آج ان نظاروں کو دیکھ کر احمدیوں کے ایمان ویقین میں اضافہ ہوتا ہمیں نظر آتا ہے۔آج سے تقریباً 20 سال پہلے جب ایک قانون کے تحت احمدیوں پر پابندیاں لگائی گئی