خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 237
$2004 237 خطبات مسرور نواہی سے بچتے رہو۔اور یہ ایک ایسی صاف بات ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بھی نری باتوں سے خوش نہیں ہوتا بلکہ وہ بھی خدمت ہی سے خوش ہوتا ہے۔سچے مسلمان اور جھوٹے مسلمان میں یہی فرق ہوتا ہے کہ جھوٹا مسلمان باتیں بناتا ہے کرتا کچھ نہیں۔اور اس کے مقابلے میں حقیقی مسلمان عمل کر کے دکھاتا ہے، باتیں نہیں بناتا۔پس جب اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ میرا بندہ میرے لئے عبادت کر رہا ہے اور میرے لئے میری مخلوق پر شفقت کر رہا ہے تو اس وقت ( وہ ) اپنے فرشتے اس پر نازل کرتا ہے۔اور بچے اور جھوٹے مسلمان میں جیسا کہ اس کا وعدہ ہے فرقان رکھ دیتا ہے۔(ملفوظات جلد نمبر ۳ صفحه ٢١٥ ـ الحكم ۱۷ اپریل ١٩٠٤ تو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ عبادات بجالاؤ، نمازیں پڑھو، دعائیں کرو، اللہ سے اس کا فضل مانگو پھر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم کو سمجھو اور یہ علیم ہمیں قرآن کریم سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔اس لئے قرآن کریم کو بھی غور سے پڑھو، اس پر تدبر کرو، سو چو اور اس میں دیئے گئے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔کیونکہ اگر ہمیشہ کی ہدایت پانی ہے، ہمیشہ سیدھے راستے پر چلنا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت کا لطف اٹھانا ہے تو پھر اس تعلیم پر عمل کرنا بھی ضروری ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں دی ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ بَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصَّلِحَتِ۔أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا۔(سورة بنی اسرائیل آیت : ۱۰) یقیناًیہ قرآن اس (راہ) کی طرف ہدایت دیتا ہے جو سب سے زیادہ قائم رہنے والی ہے اور ان مومنوں کو جو نیک کام کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ( مقدر) ہے۔ایک حدیث میں ہے حضرت عثمان بن عفان بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن کریم سیکھتا اور دوسروں کو سکھاتا ہے۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب خيركم من تعلم القرآن وعلمه پھر ایک دوسری روایت میں آتا ہے زید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابو سلام سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ ابوامامہ الباہلی نے مجھے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن پڑھو کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے بطور شفیع آئے گا۔پھر ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کو قرآن کریم کا