خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 19

$2004 19 خطبات مسرور ہوتے تو خدا نہ ملتا۔جب لوگ اپنی اعلیٰ ذات پر فخر کرتے تو کبیر اپنی کم ذات پر نظر کر کے شکر کرتا تھا۔)۔پس انسان کو چاہئے کہ ہر دم اپنے آپ کو دیکھے کہ میں کیسا بیچ ہوں۔میری کیا ہستی ہے۔ہر ایک انسان خواہ کتنا ہی عالی نسب ہو مگر جب وہ اپنے آپ کو دیکھے گا بہر نسج وہ کسی نہ کسی پہلو میں بشرطیکہ آنکھیں رکھتا ہو تمام کا ئنات سے اپنے آپ کو ضرور بالضرور نا قابل و پیچ جان لے گا۔انسان جب تک ایک غریب و بیکس بڑھیا کے ساتھ وہ اخلاق نہ برتے جو ایک اعلیٰ نسب عالی جاہ انسان کے ساتھ برتا ہے یا برتنے چاہئیں اور ہر ایک طرح کے غرور ور عونت و کبر سے اپنے آپ کو نہ بچاوے وہ ہرگز ہرگز خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوسکتا۔(ملفوظات جلد سوم صفحه ٣١٥،٣١٤ الحكم ٣١ مئى ١٩٠٣) فرمایا: خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہرگز نہیں کہ جو اس کے حضور عاجزی سے گر پڑے وہ اسے خائب و خاسر کرے اور ذلت کی موت دیوے۔جو اس کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسی نظیر ایک بھی نہ ملے گی کہ فلاں شخص کا خدا سے سچا تعلق تھا اور پھر وہ نامراد رہا۔خدا تعالیٰ بندے سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہش اس کے حضور پیش نہ کرے اور خالص ہو کر اس کی طرف جھک جاوے۔جو اس طرح جھکتا ہے اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور ہر ایک مشکل سے خود بخو د اس کے واسطے راہ نکل آتی ہے جیسے کہ وہ خود وعدہ فرماتا ہے ﴿مَنْ يُتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِب اس جگہ رزق سے مراد صرف روٹی نہیں بلکہ عزت علم وغیرہ سب باتیں جن کی انسان کو ضرورت ہے اس میں داخل ہیں۔خدا تعالیٰ سے جو ذرہ بھر بھی تعلق رکھتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرٌ ايْرَهُ ﴾۔ہمارے ملک ہندوستان میں نظام الدین صاحب اور قطب الدین صاحب اولیاء اللہ کی جو عزت کی جاتی ہے وہ اسی لئے ہے کہ خدا تعالیٰ سے ان کا سچا تعلق تھا۔(البدر جلد ٢ نمبر ١٤ مورخه ٢٤/اپریل ۱۹۰۳ صفحه ۱۰۷)- پھر فرمایا: ” خدا تعالیٰ کی طرف قدم اٹھاؤ اور پر ہیز گاری کی باریک راہوں کی رعایت رکھو۔