خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 227
$2004 227 خطبات مسرور سمجھنے میں غلطی کریں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکیں گے۔بعض ایسی حرکتیں کرنی لگ جائیں گے جن سے اظہار ہو کہ وہ عبادالرحمن نہیں رہے۔تب مسیح موعود اور مہدی معہود کا ظہور ہوگا اور وہ بتائیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی صحیح صورت کیا ہے، تشریح کیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے طریق کیا ہیں۔الحمدللہ کہ آپ وہ خوش قسمت لوگ ہیں جنہوں نے ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی مسیح موعود اور مهدی موعود کی آواز کو سنا اور اس کو مانا۔اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔پس اس فضل کے شکرانے کے طور پر ہم پر مزید فرض عائد ہو جاتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف اور توجہ دیں۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ عبادت کے طریق کیا ہیں۔کیا صرف منہ سے نماز کے الفاظ دہرا لینا اور ظاہری رکوع و سجود کر لینا کافی ہے؟ کیا یہی باتیں یعنی ظاہری حرکات ہمیں اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندوں میں شمار کرنے کے لئے کافی ہوں گی ؟ یاد رکھیں کہ عبادت کے صحیح مفہوم کو سمجھنے کے لئے بہترین طریق یہ ہے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سے عبادت کے طریق سمجھیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وہ فہم اور علم عطا فرمایا ہے جس کو آپ نے ہم تک پہنچایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے ( یعنی بنیادی مقصد یہی عبادت ہے )۔جیسے دوسری جگہ فرمایا ﴿ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ﴾ (الذاریت : ۵۷) یعنی عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت کجی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنادے جیسے زمیندارز مین کو صاف کرتا ہے۔( یعنی دل کی سختی اور کبھی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنادے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے )۔عرب کہتے ہیں کہ مَوْرٌ مُعَبَّدٌ جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھ میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں۔اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر پتھر نا ہمواری نہ رہے اور ایسا صاف ہو گو یا روح ہی روح ہو، اس کا نام عبادت