خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 13
$2004 13 خطبات مسرور موعود علیہ السلام کی زندگی میں نظر آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اپنے تو در کنار میں تو یہ کہتا ہوں کہ غیروں اور ہندوؤں کے ساتھ بھی ایسے اخلاق کا نمونہ دکھاؤ اور ان سے ہمدردی کرو اور لا ابالی مزاج ہر گز نہیں ہونا چاہئے۔پھر اس واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں سیر کو جارہا تھا تو ایک پٹواری میرے ساتھ تھا وہ ذرا آگے تھا اور میں پیچھے۔راستے میں ایک بڑ ہیا ۷۰، ۷۵ سال کی ملی پہلے ان پٹواری صاحب کو اس نے خط پڑھنے کو کہا مگر اس نے اسے جھڑ کیاں دے کر ہٹا دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرے دل پر چوٹ سی لگی۔پھر اس بڑہیا نے وہ خط مجھے دیا تو فرماتے ہیں کہ میں اس کو لے کر ٹھہر گیا اور اس کو پڑھ کر اچھی طرح سمجھا دیا۔اس پر پٹواری کو بڑی شرمندگی ہوئی کیونکہ ٹھہر نا تو پڑا اور ثواب سے بھی محروم رہا۔(ملفوظات جلد چهارم صفحه ۸۲ ۸۳ الحكم ۳۱ جولائی تا ١٠ اگست ١٩٠٤) پھر آنحضرت ﷺ کی عاجزی کی ایک اور مثال دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور کس طرح عاجزانہ مناجات کرتے ہیں باوجود اس کے کہ آپ کو ہر طرح کی ضمانت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی ، باوجود اس کے کہ آپ کو علم تھا کہ آپ کے پاس شیطان کا گزرنہیں ہوتا جیسا کہ فرمایا کہ میرا تو شیطان بھی مسلمان ہو گیا ہے۔لیکن پھر بھی کسی خوف اور عاجزی سے مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ سے۔روایت ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر عرفات کی شام میں اس طرح دعا کی کہ : اے اللہ ! تو میری باتوں کو سنتا ہے اور میرے حال کو دیکھتا ہے میری پوشیدہ باتوں اور ظاہر امور سے تو خوب واقف ہے میرا کوئی بھی معاملہ تجھ پر مخفی نہیں میں ایک بد حال فقیر اور محتاج ہی تو ہوں تیری مدداور پناہ کا طالب ، سہا اور ڈرا ہوا اپنے گناہوں کا اقراری اور معترف ہو کر تیرے پاس چلا آیا ہوں۔میں تجھ سے عاجز مسکین کی طرح سوال کرتا ہوں ہاں تیرے حضور میں ایک ذلیل گناہگار کی طرح زاری کرتا ہوں، ایک اندھے نابینے کی طرح ٹھوکروں سے خوف زدہ تجھ سے دعا کرتا ہوں میری گردن تیرے آگے جھکی ہوئی ہے اور میرے آنسو تیرے حضور بہہ رہے ہیں میرا جسم تیرا مطیع ہو کر سجدے میں گرا پڑا ہے اور ناک خاک آلودہ ہے۔اے اللہ تو مجھ اپنے حضور دعا کرنے میں بد بخت