خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 167
$2004 167 خطبات مسرور فطرت میں دورنگی ہے اگر چہ وہ اس کے اختیار میں نہ ہو۔صحابہ کرام کو دیکھو (اب یہ بہت بار یک تشریح حضرت مسیح موعود فرما رہے ہیں) کہ صحابہ کرام کو اس دورنگی کا بہت خطرہ رہتا تھا، ایک دفعہ حضرت ابو ہریرہ رو رہے تھے تو حضرت ابو بکڑ نے پوچھا کہ کیوں روتے ہو کہا کہ اس لئے روتا ہوں کہ مجھ میں نفاق کے آثار معلوم ہوتے ہیں۔جب میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا ہوں تو اس وقت دل نرم اور اس کی حالت بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے مگر جب ان سے جدا ہوتا ہوں تو وہ حالت نہیں رہتی۔ابو بکڑ نے فرمایا کہ یہ حالت تو میری بھی ہے پھر دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کل ماجرا بیان کیا۔آپ نے فرمایا کہ تم منافق نہیں ہو، انسان کے دل میں قبض اور بسط ہوتی رہتی ہے یعنی تنگی بھی آتی ہے مختلف حالتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔جو حالت تمہاری میرے پاس ہوتی ہے اگر وہ ہمیشہ رہے تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔تو اب دیکھو صحابہ کرام اس نفاق اور دورنگی سے کس طرح ڈرتے تھے جب انسان جرات اور دلیری سے زبان کھولتا ہے تو وہ بھی منافق ہوتا ہے۔دین کی ہتک ہوتی سنے اور وہاں کی مجلس نہ چھوڑے یا ان کو جواب نہ دے تب بھی منافق ہوتا ہے۔اگر مومن میں غیرت اور استقامت نہ ہوتب بھی منافق ہوتا ہے، جب تک انسان ہر حال میں خدا کو یا د نہ کرے تب تک نفاق سے خالی نہ ہوگا اور یہ حالت تم کو بذریعہ دعا حاصل ہوگی، ہمیشہ دعا کرو کہ خدا تعالیٰ اس سے بچاوے جو انسان داخل سلسلہ ہو کر پھر بھی دورنگی اختیار کرتا ہے تو وہ اس سلسلے سے دور رہتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے منافقوں کی جگہ اسفل السافلین رکھی ہے کیونکہ ان میں دورنگی ہوتی ہے اور کافروں میں یک رنگی ہوتی ہے۔(ملفوظات جلد۔سوم صفحه ٤٥٦،٤٥٥ البدر ١٦ نومبر ۱۹۰۳ء) یعنی کا فر کم از کم کھل کر دشمن ہوتے ہیں منافقت نہیں کر رہے ہوتے۔حضرت زید بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس وقت کوئی