خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 147
$2004 147 خطبات مسرور کیا۔اللہ کا یہ احسان ہے جس نے تمہیں قبول اسلام کی توفیق دی۔(السيرة الحلبيه جلد ۳ صفحه ١٠٦ - مطبوعه بيروت اپنی بیٹی کے قاتل کو معاف کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔لیکن کیونکہ آپ عفو کی تعلیم دیتے تھے اس لئے خود کر کے دکھایا کیونکہ اصل مقصد تو اصلاح ہے جب آپ نے دیکھا کہ اس کی اصلاح ہو گئی ہے تو بیٹی کا خون بھی معاف کیا اور بعض حالات میں دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دی۔وائل بن حجر سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک قاتل کو پیش کیا گیا جس کے گلے میں پٹہ ڈالا گیا۔راوی کہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے وارث کو بلوایا اور فرمایا کیا تم معاف کرتے ہو؟ اس نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا کیا تم دیت لو گے؟ اس نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا کیا تم اسے قتل کرو گے؟ اس نے کہا جی ہاں ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جاؤ۔جب وہ شخص قاتل کو لے کر جانے لگا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار فرمایا کیا تم معاف کرتے ہو؟ اس نے کہا نہیں۔آپ نے فرمایا کیا تم دبیت لو گے؟ اس نے کہا نہیں ، آپ نے فرمایا کیا تم اسے قتل ہی کرو گے؟ اس نے کہا جی حضور ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جاؤ، چوتھی مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عفو کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم اسے معاف کر دیتے تو یہ اپنے گناہ اور اپنے مقتول ساتھی کے گناہ کے ساتھ لوٹتا۔(سنن ابی داؤد کتاب الديات باب الامام يامر بالعفو) پھر ایک اور اعلیٰ مثال دیکھیں۔عبداللہ بن سعد ابن ابی سرح کا تب وحی تھا مگر بغاوت اور ارتداد اختیار کرتے ہوئے کفار مکہ سے جاملا اور وہاں جا کر کھلے بندوں یہ کہنے لگا کہ جو میں کہتا تھا اس کے مطابق وحی بنا کر لکھ دی جاتی تھی (نعوذ باللہ )۔اس کی ایسی حرکتوں پر اسے واجب القتل قرار دیا گیا اور بعض مسلمانوں نے یہ نذر مانی کہ اس دشمن خدا اور رسول کو قتل کریں گے مگر اس نے اپنے رضاعی بھائی حضرت عثمان غنی کی پناہ میں آ کر معافی کی درخواست کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم