خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 146
$2004 146 مسرور حضرت معاذ بن رفاعہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق منمنبر پر چڑھے اور پھر بے اختیار رو دیئے اور فرمایا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سال جب منبر پر چڑھے تو رونے لگے اور فرمایا اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت طلب کرو کیونکہ یقین کے بعد عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں جو کسی کومل سکتی ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے حق میں بددعا کرنے والوں کو کہا میں دنیا میں لعنت کے لئے نہیں بلکہ رحمت کے لئے آیا ہوں۔صله الله (صحیح بخاری بعث النبي ) جیسا کہ میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عفو ذاتی دشمنوں پر بھی محیط تھا۔اس لئے دشمنوں کو بھی آپ کے اس خلق کا پتہ تھا کہ آپ میں یہ بہت اعلیٰ خلق ہے۔اور اسی وجہ سے ان کو جرات پیدا ہوتی تھی کہ وہ باوجود دشمنیوں کے آپ کے سامنے آکے معافی مانگ لیا کرتے تھے۔ایک مثال دیکھیں کہ ہبار بن الاسود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب پر مکہ سے مدینہ ہجرت کے وقت نیزے سے قاتلانہ حملہ کیا تھا اور اس کے نتیجہ میں ان کا حمل ضائع ہو گیا اور بالآخر یہی چوٹ ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی۔اس جرم کی بنا پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا فیصلہ فرمایا تھا۔فتح مکہ کے موقع پر یہ بھاگ کر کہیں چلا گیا مگر بعد میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینہ تشریف لائے تو صبار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور رحم کی بھیک مانگتے ہوئے عرض کیا کہ پہلے تو میں آپ سے ڈر کر فرار ہو گیا تھا مگر پھر آپ کے عفو اور رحم کا خیال مجھے آپ کے پاس واپس لے آیا ہے۔اے خدا کے نبی! ہم جاہلیت اور شرک میں تھے خدا نے ہمیں آپ کے ذریعے ہدایت دی اور ہلاکت سے بچایا۔میں اپنی زیادتیوں کا اعتراف کرتا ہوں پس میری جہالت سے صرف نظر فرمائیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کے اس قاتل کو بھی معاف فرمایا ، بخش دیا اور فرمایا جا اے ھبار! میں نے تجھے معاف