خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 135

$2004 135 خطبات مسرور سے بچتے رہو اور گالیاں سن کر بھی صبر کرو، بدی کا جواب نیکی سے دو اور کوئی فساد کرنے پر آمادہ ہو تو بہتر ہے کہ تم ایسی جگہ سے کھسک جاؤ اور نرمی سے جواب دو۔بار ہا ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص بڑے جوش سے مخالفت کرتا ہے اور مخالفت میں وہ طریق اختیار کرتا ہے جو مفسدانہ طریق ہو جس سے سننے والوں میں اشتعال کی تحریک ہو لیکن جب سامنے سے نرم جواب ملتا ہے اور گالیوں کا مقابلہ نہیں کیا جاتا۔تو خود سے شرم آ جاتی ہے۔اور وہ اپنی حرکت پر نادم اور پشیمان ہونے لگتا ہے۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ صبر کو ہاتھ سے نہ دو۔صبر کا ہتھیا را ایسا ہے کہ تو پوں سے وہ کام نہیں نکلتا جو صبر سے نکلتا ہے صبر ہی ہے جو دلوں کو فتح کر لیتا ہے“۔(ملفوظات جلد چهارم صفحه ١٥٨،١٥٧ ـ الحكم ٣٠ ستمبر ١٩٠٤ء) پھر آپ نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : فتنہ کی بات نہ کرو بشر نہ کرو، گالی پر صبر کرو کسی کا مقابلہ نہ کرو جو مقابلہ کرے اس سے سلوک اور نیکی سے پیش آؤ شیریں بیانی کا عمدہ نمونہ دکھلاؤ۔سچے دل سے ہر حکم کی اطاعت کرو کہ خدا تعالیٰ راضی ہو اور دشمن بھی جان لے کہ اب بیعت کر کے یہ شخص وہ نہیں رہا جو کہ پہلے تھا۔مقدمات میں سچی گواہی دو۔اس سلسلے میں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ پورے دل ، پوری ہمت اور ساری جان سے راستی کا پابند ہو جائے دنیا ختم ہونے پر آئی ہوئی ہے۔(ملفوظات جلد۔سوم صفحه ٦٢٠، ٦٢١ - ١٦ مارچ ١٩٠٤) اللہ تعالیٰ ہمیں ان نصائح پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔