خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 128 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 128

$2004 128 خطبات مسرور معمولی رقم سے کاروبار وسیع کرتے بھی دیکھا ہے۔تو جب انسان ہمت کرے تو خدا تعالیٰ برکت بھی ڈالتا ہے۔یہاں یورپ میں بھی بعض لوگ جو جوان ہیں بعض فارغ بیٹھے رہتے ہیں کہ ضروریات تو پوری ہو رہی ہیں تو ان کو بھی چاہئے کہ چاہے چھوٹے سے چھوٹا کام ملے اپنی تعلیم کے مطابق نہ بھی کام ملے تب بھی کام کرنا چاہئے فارغ بہر حال نہیں بیٹھنا چاہئے۔ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کے بعض افراد نے رسول اللہ اللہ سے کچھ مال طلب کیا جس شخص نے بھی آنحضور ﷺ سے مانگا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نواز دیاحتی کہ آپ کے پاس جمع شدہ مال ختم ہو گیا اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ میرے پاس جو مال ہوتا ہے جب تک وہ میرے پاس ہوتا ہے تو میں اسے دونوں ہاتھوں سے خرچ کرتا رہتا ہوں۔میں اسے تم سے بچا کر تو نہیں رکھتا لیکن تم میں سے جو شخص سوال کرنے سے بچے گا اللہ تعالیٰ بھی اس سے عفو کا سلوک فرمائے گا، اور جو کوئی صبر کا مظاہرہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر عطا کر دے گا۔اور جو کوئی استغناء ظاہر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا۔اور تمہیں کوئی عطا صبر سے بہتر اور وسیع تر نہیں دی گئی۔(بخاری کتاب الرقاق باب الصبر عن محارم الله۔پھر حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دنیا میں اپنی بھوک مثالی قیامت کے دن یہ اس کی امیدوں کے درمیان روک ہوگی۔اور جس نے حالت فقر میں اہل ثروت کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا وہ رسوا ہو گا اور جس نے حالت فقر میں صبر سے کام لیا اللہ تعالیٰ اسے جنت فردوس میں جہاں وہ شخص چاہے گا اسے ٹھہرائے گا۔( مجمع الزوائد جلده اصفحہ ۲۴۸) پھر ہمارے معاشرے کی ایک یہ بھی بیماری ہے کہ جس کے ہاں صرف بیٹیاں پیدا ہو جائیں یا زیادہ بیٹیاں پیدا ہو جائیں وہ بیٹیوں کے حقوق اس طرح ادا نہیں کرتے جس طرح اولاد کے کرنے