خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 98 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 98

خطبات مسرور 98 $2004 احکام اور حقیقت کی خبر نہیں۔البدر جلد ۳ نمبر ٣٤ مورخه ١٨ ستمبر ١٩٠٤ء صفحه ٦- ٧ ـ بحواله تفسیر حضرت مسیح موعود پھر فرماتے ہیں:۔عليه السلام جلد۔سوم صفحه ٤٤٣) ایماندار عورتوں کو کہہ دے کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو نامحرم مردوں کے دیکھنے سے بچائیں اور اپنے کانوں کو بھی نامحرموں سے بچائیں یعنی ان کی پر شہوت آواز میں نہ سنیں اور اپنے ستر کی جگہ کو پردہ میں رکھیں اور اپنی زینت کے اعضاء کو کسی غیر محرم پر نہ کھولیں اور اپنی اوڑھنی کو اس طرح سر پر لیں کہ گریبان سے ہو کر سر پر آجائے یعنی گریبان اور دونوں کان اور سر اور کنپٹیاں سب چادر کے پردہ میں رہیں اور اپنے پیروں کو زمین پر ناچنے والوں کی طرح نہ ماریں۔یہ وہ تدبیر ہے کہ جس سے پابندی ٹھوکر سے بچاسکتی ہے۔(رپورٹ جلسه اعظم مذاهب صفحه ۱۰۰ ـ ۱۰۱ - بحواله تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام صفحه ٤٤٤) جلد سوم پھر فرمایا: مومن کو نہیں چاہئے کہ دریدہ دہن بنے یا بے محابا اپنی آنکھ کو ہر طرف اٹھائے پھرے، بلکہ ﴿يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾ (النور: ۳۱) پر عمل کر کے نظر کو نیچی رکھنا چاہئے اور بدنظری کے اسباب سے بچنا چاہئے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ ۵۳۳ از نوٹ بک مولوی شیر علی صاحب) اب یہ جو غض بصر کا حکم ہے، پردے کا حکم ہے اور تو بہ کرنے کا بھی حکم ہے، یہ سب احکام ہمارے فائدے کے لئے ہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنا پیار ، اپنا قرب عطا فرمائے گا کہ اس کے احکامات پر عمل کیا۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اس معاشرے میں، اس دنیا میں جہاں تم رہ رہے ہو، ان نیکیوں کی وجہ سے تمہاری پاکدامنی بھی ثابت ہو رہی ہوگی اور کوئی انگلی تم پر یہ اشارہ کرتے ہوئے نہیں اٹھے گی کہ دیکھو یہ عورت یا مرد اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہے، ان سے بچ کر ر ہو۔اور یہ کہتے پھریں لوگ کہ خود بھی بچو اور اپنے بچوں کو بھی ان سے بچاؤ نہیں بلکہ ہر جگہ اس نیکی کی وجہ سے ہمیں عزت کا مقام ملے گا۔دیکھیں جب ھرقل بادشاہ نے ابوسفیان سے آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے بارہ میں پوچھا