خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 73
$2004 73 خطبات مسرور اس کو رواج دینا اور یہ اعلیٰ اخلاق اپنے رشتہ داروں کو سکھانا آج ہر احمدی کا کام ہے۔تب ہی تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ واسلام نے فرمایا ہے کہ تم صلح میں پہل کرو اور سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔تب ہی یہ اعلیٰ اخلاق کا معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔آنحضرت ﷺ کا اپنا اسوہ اس بارہ میں کیا اعلیٰ تھا۔بخاری کی روایت ہے۔رسول کریم کے اکثر رحمی رشتہ داروں نے دعوی نبوت پر آپ کی مخالفت کی ، مگر آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بے شک قریش کی فلاں شاخ والے لوگ میرے دوست نہیں رہے، دشمن ہو گئے ہیں مگر آخر میرا اُن سے ایک خونی رشتہ ہے، میں اس رحمی تعلق کے حقوق بہر حال ادا کرتار ہوں گا۔(بخاری کتاب الادب باب قبل الرحم ببلالها تو دیکھیں یہ وہ تعلیم ہے جس پر آپ نے عمل کر کے دکھایا۔پھر اپنے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کیا نمونہ تھا۔یہ واقعہ سنیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ: ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کو یہ اطلاع ملی کہ یہی مرزا نظام الدین صاحب جو حضرت مسیح موعود کے اشد ترین مخالف تھے بیمار ہیں اس پر حضور ان کی عیادت کے لئے بلا توقف ان کے گھر تشریف لے گئے اس وقت ان پر بیماری کا اتنا شدید حملہ تھا کہ ان کا دماغ بھی اس سے متاثر ہو گیا تھا۔آپ نے ان کے مکان پر جا کر ان کے لئے مناسب علاج تجویز فرمایا جس سے وہ خدا کے فضل سے صحت یاب ہو گئے۔ہماری اماں جان حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا بیان فرماتی تھیں کہ باوجود اس کے کہ مرزا نظام الدین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت مخالف بلکہ معاند تھے آپ ان کی تکلیف کی اطلاع پا کر فورا ہی ان کے گھر تشریف لے گئے اور ان کا علاج کیا اور ان سے ہمدردی فرمائی۔یہ وہی مرزا نظام الدین صاحب ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود کے خلاف بعض جھوٹے مقدمات کھڑے کئے اور اپنی مخالفت کو یہاں تک پہنچا دیا کہ حضرت مسیح موعود اور حضور کے دوستوں اور