خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 72
$2004 72 خطبات مسرور پناہ میں آنے کا مقام ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ہاں۔کیا تو اس چیز پر راضی نہیں کہ میں اس سے تعلق جوڑوں گا جو تجھ سے تعلق جوڑے گا۔اور جو تجھ سے قطع تعلقی کرے گا میں اس سے تعلق توڑ لوں گا۔اس پر رحم نے کہا اے میرے رب! میں اس بات پر کیوں راضی نہ ہوں گا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔یہ مقام صرف تجھے حاصل ہے اور پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔پس اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کریم کی یہ آیت پڑھو۔فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِعُوْا أَرْحَامَكُمْ (محمد: ۲۳) یعنی کیا تمہارے لئے ممکن ہے کہ اگر تم متوتی ہو جاؤ تو تم زمین میں فساد کرتے پھرو اور اپنے ریمی رشتوں کو کاٹ دو؟۔(بخاری کتاب الادب باب من وصل وصله الله) ابن شہاب روایت کرتے ہیں کہ محمد بن جبیر بن مطعم نے کہا کہ جبیر بن مطعم نے انہیں بتایا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعْ - کہ رحمی تعلقات کو توڑنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔(بخاری کتاب الادب باب اثم القاطع) تو دیکھیں کتنی تاکید ہے ان رشتوں کا خیال رکھنے اور ان سے تعلق جوڑنے کی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ تعلق قائم رکھتا ہے ان سے جو ان رشتوں سے تعلق قائم رکھتے ہیں اور ان سے حسن سلوک کرتے ہیں۔حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ:۔صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلے میں تعلق جوڑے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے جس سے جب تعلق تو ڑا جائے تو وہ تعلق جوڑے۔( بخاری کتاب الادب)۔یعنی اگر تم سے کوئی صلح رحمی کر رہا ہے یا اچھے اخلاق سے پیش آرہا ہے تو تم اس کے بدلے میں اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔اگر کوئی تعلق توڑنا بھی چاہتا ہے تو اس سے تعلق جوڑو۔تو دیکھیں کتنی پیاری تعلیم ہے۔صلح کا ہاتھ تم پہلے بڑھاؤ اگر ہر مسلمان اس پر عمل کرنا شروع کر دے تو کیا کوئی جھگڑا باقی رہ جاتا ہے۔ہر طرف امن کی فضا قائم ہو جائے گی۔اب یہ تعلیم جو ہے