خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 749 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 749

$2004 749 خطبات مسرور کے لئے جہنم واجب ہو جائے گی۔اور جو بر اعمل کرے گا اس کو اتنی ہی سزا ملے گی۔اور جس نے نیکی کرنے کا ارادہ کیا مگر وہ اسے کر نہ سکا تو اسے نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملے گا۔اور جو کوئی نیکی بجا لایا تو اسے دس گنا اجر ملے گا۔اور جس نے اپنے مال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا اس کے خرچ کردہ در ہم اور دینا ر سات سو گنا بڑھا دیئے جائیں گے۔اور فرمایا کہ روزہ ایک ایسا عمل ہے جو اللہ عز وجل کی خاطر کیا جاتا ہے اور روزہ رکھنے والے کا اجر صرف اللہ عز وجل کو ہی معلوم ہے۔(الترغيب و الترهيب - كتاب الصوم الترغيب في الصوم مطلقا۔۔۔۔۔۔۔تو جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا اس کی جزا میں خود ہوں جتنا چاہے اللہ تعالیٰ بڑھا دے۔سات سو گنا بتا کر یہ بتادیا کہ اس سے بھی زیادہ جزا ہو سکتی ہے۔کیونکہ روزہ دار اپنے اندر ایک انقلابی تبدیلی پیدا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس پر جب قائم رہنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر یہ سلسلہ ہے جو جزا کا چلتا چلا جاتا ہے۔حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شعبان کے آخری روز مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو! تم پر ایک عظیم اور بابرکت مہینہ سایہ لیکن ہوا چاہتا ہے۔اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے رکھنے فرض کئے ہیں۔اور اس کی راتوں کو قیام کرنا نفل ٹھہرایا ہے۔هُوَ شَهْرٌ اَوَّلُهُ رَحْمَةٌ وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ وَاخِرُهُ عِتْقَ مِّنَ النَّارِ۔کہ وہ ایک ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی عشرہ رحمت ہے اور درمیانی عشرہ مغفرت کا موجب ہے اور آخری عشرہ جہنم سے نجات دلانے والا ہے۔اور جس نے اس میں کسی روزہ دار کو سیر کیا اسے اللہ تعالیٰ میرے حوض سے ایسا مشروب پلائے گا کہ اسے جنت میں داخل ہونے سے پہلے کبھی پیاس نہ لگے گی۔(صحیح ابن خزیمه کتاب الصيام ـ باب فضائل شهر رمضان۔تو یہاں اس بات کی مزید وضاحت بھی ہو گئی کہ اس مہینے کے روزے ایک تو فرض ہیں اس لئے بہانے بازی کوئی نہیں اور دوسرے صرف بھوکے نہیں رہنا بلکہ عبادتوں میں بڑھنا ہے۔راتوں کو