خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 716 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 716

$2004 716 خطبات مسرور اور ہر ایک کدورت سے خالی حضور اس کی نماز میں پیدا ہو جائے“۔یعنی ہر ایک کے لئے آسان نہیں ہے کہ اس طرح کی جو کیفیت ہے وہ پیدا ہو جائے یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔فرمایا کہ : ” گویا وہ خدا کو دیکھ لے اور ظاہر ہے کہ جب تک نماز میں یہ کیفیت پیدا نہ ہو وہ نقصان سے خالی نہیں۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ متقی وہ ہیں جو نماز کو کھڑی کرتے ہیں اور کھڑی وہی چیز کی جاتی ہے جو گرنے کے لئے مستعد ہے۔پس آیت یقیمون الصلوۃ کے یہ معانی ہیں کہ جہاں تک ان سے ہوسکتا ہے نماز کو قائم کرنے کے لئے کوشش کرتے ہیں اور تکلف اور مجاہدات سے کام لیتے ہیں۔مگر انسانی کوششیں بغیر خدا تعالیٰ کے فضل کے بیکار ہیں۔( حقيقة الوحى روحانی خزائن جلد 22 صفحه 13-139 ) یہ ساری چیز میں فرمایا کہ اس طرح پیدا نہیں ہو سکتیں۔اس کے لئے بہر حال کوشش کرنی ہو گی۔اور پھر اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگنا ہو گا۔ورنہ تو اس کے بغیر یہ سب چیزیں بیکار ہیں۔پھر جب یہ نمازیں پڑھنے والے ہو جائیں تو پھر نفلوں سے اپنی عبادتیں سجانے کا بھی حکم ہے۔اور یہی بھی ممکن ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ فرائض کی طرف توجہ ہو، نماز قائم کرنے کی طرف توجہ ہو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جب رات کا آخری پہر ہو جائے تو اللہ تعالیٰ سماء دنیا پر نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے میں اس کی دعا قبول کروں۔یعنی رات کے آخری پہر میں اللہ تعالیٰ نیچے آتا ہے اور کہتا ہے کوئی ہے جو دعا کرے میں اس کی دعا قبول کروں۔کوئی ہے جو مغفرت طلب کرے تو میں اس کو بخش دوں۔کوئی ہے جو مجھ سے رزق طلب کرے میں اسے رزق عطا کروں۔کوئی ہے جو مجھ سے اپنی تکلیف دور کرنے کے لئے دعا کرے تو میں اس کی تکلیف دور کروں۔اللہ تعالیٰ یونہی فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح صادق ہو جاتی ہے۔(مسنداحمد بن حنبل جلد 2 صفحہ 521 مطبوعہ بیروت) پس ہر احمدی کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو ابدی بنانے کے لئے ، ہمیشہ کے لئے قائم رکھنے